بستر مرگ سے زندگی کا پیغام
کالم نگار: ظفر اقبال ظفر
دو سال سے زائد ہوگئے سائبر کرائم لاہور سے انصاف سے محروم ہوئے۔ آخری بار انوسٹی گیشن انسپکٹر نے کہا تھا کہ ظفر صاحب ہائی پروفائل کیس اتنے ہیں کہ آپ جیسے عام پاکستانی کے کیس کے بارے میں افسر شاہی نے کبھی نہ پوچھا، نہ کبھی دباؤ ڈالا۔ یہ سن کر میری دماغی کوفت اور پریشانی میں اضافہ ہوا۔
سائبر کرائم میں لٹ جانے والی رقم کی وجہ سے میں قرض کے بوجھ تلے نیم مردہ حال گاڑی پہ گھر پہنچا کہ اچانک طور پر دل کے شدید دورے میں مبتلا ہو گیا، یہاں تک کہ مجھے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا، اس نے آتے ہی ایک انجکشن لگایا۔ میں صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا مگر بستر پہ جانے کے لیے ایک قدم بھی اُٹھانے کی سکت نہیں تھی۔
جب مجھے ہوش آیا دیکھتا ہوں کہ آخری رسوم میں غسل اور نماز جنازہ کے لیے مولوی صاحب پہنچ چکے ہیں۔ میں نے اپنے گھر والوں کے چہرے دیکھے جن پر غم و سوگ کے تاریک بادل چھائے ہوئے تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ میری زندگی کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ بعدازاں مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر نے بیوی کو اس جان گراز حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے پہلے ہی تیار کر لیا تھا کہ میں تیس منٹ کے اندر اندر مر جاؤں گا۔ میرا دل اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ اک لفظ بھی زبان سے نکال نہیں پا رہا تھا اور نہ اپنے جسم کے کسی حصے کو حرکت دے پا رہا تھا۔
میں بڑا نیک، پرہیز گار، عبادت گزار کبھی نہیں رہا، لیکن میں نے ایک بات ضرور سیکھی، سمجھی، مانی، جانی ہے کہ خدا کے معاملات پر کبھی بحث و تکرار نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے آنکھیں بند کر لیں اور دل میں کہا۔ خالق صرف تیری مرضی پوری ہو کر رہے گی۔ اگر ایسا ہو کر رہنا ہے تو تیرا حکم و رضا پر میں تسلیم و رضا کا اقرار کرتا ہوں۔
یونہی میں نے ان خدائی خیالات اور ذاتی اطاعت پر توجہ مرکوز کی، میں نے اپنے پورے وجود میں اک خاص سکون کو سرایت کرتا محسوس کیا جس نے میری روح تک کو اپنے حصار میں لے لیا۔ میرا سارا ڈر خوف اندر سے نکل کر باہر کی ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ اس سے بدترین اور کیا ہو سکتا ہے؟ میں نے جان لیا کہ اس سے بھی بدترین کچھ ہے تو وہ شدید درد کے ساتھ اعصابی کھینچاؤ کی امکانی واپسی ہے۔ پھر سارا سفر زندگی اختتام پذیر ہو جائے گا، میں خالق حقیقی سے جا ملوں گا۔ دنیا کے تمام دُکھوں سے نجات کا خاتمہ اور آخرت کی تمام راحتوں کی شروعات ہو جائے گی۔
میں اُسی صوفے پر پڑا رہا اور کتنی دیر تک انتظار کرتا رہا، مگر احساس پر غالب وہ درد لوٹ کر نہ آیا۔ پھر اپنے آپ سے پوچھا کہ اگر اب کی بار میں نہ مرا تو میں اپنی بقیہ زندگی کو جینے کے لیے کیسے ترتیب دوں گا؟
میں نے پختہ عزم کر لیا کہ میں اپنی جسمانی و رُوحانی صحت کی تندرستی کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ اعصابی کشمکش اور پریشانیوں سے اپنا بیڑا غرق نہیں کروں گا بلکہ بے قدری سے کھو جانی والی قوت کو دوبارہ حاصل کرکے حفاظت میں رکھوں گا۔
اس واقعے کو گزرے کئی سال ہو چکے ہیں اور میں نے اس حد تک قوت حاصل کر لی ہے کہ میری دل کی نالیوں کی مضبوط صحت کا معائنہ کرکے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ میں نے پریشان و فکر مند ہونا چھوڑ دیا ہے جس سے میرے اندر زندگی کا ایک نیا جوش، نیا ولولہ ہے۔
سچ عرض کرتا چلوں تو اگر میں نے بدترین، اپنی متوقع موت، کا سامنا نہ کیا ہوتا اور پھر روبہ اصلاح ہونے کی کوشش نہ کی ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ میں ڈر اور خوف سے مر گیا ہوتا۔
