افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے طالبان پر حملوں کے دعوے، قندھار اور ہلمند میں کارروائیاں

کابل (کیو این این ورلڈ) افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے طالبان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے دوران قندھار اور ہلمند میں طالبان سے وابستہ اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق قندھار کے ضلع ڈنڈ کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران طالبان کمانڈر عزت اللہ کو ہلاک کردیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ عزت اللہ طالبان سے وابستہ ’’طیب نیٹ ورک‘‘ کا کمانڈر تھا۔ تاہم طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے ایک اور کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قندھار کے ضلع ارغنداب کے علاقے مورچہ کوتل میں طالبان کے ایک انٹیلی جنس اہلکار کو ہلاک کیا گیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی بھی تنظیم نے اپنے بیان میں اپنے ذمے لی ہے، تاہم اس واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسی طرح افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق ہلمند میں ایک جیل کو دستی بم سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طالبان کا ایک اہلکار ہلاک اور دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ سکیورٹی واقعات کی نگرانی کرنے والی رپورٹس میں بھی اس کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم حملے اور ہلاکتوں سے متعلق طالبان کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ حالیہ عرصے میں طالبان کے خلاف متعدد مسلح کارروائیوں کے دعوے کرتا رہا ہے۔ گروپ نے ستمبر کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں میں 68 کارروائیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے 102 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور 48 کے زخمی ہونے کی بات بھی کی تھی، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی حالیہ سرگرمیوں میں قندھار اور ہلمند سمیت جنوبی افغانستان کے صوبے خاص طور پر نمایاں رہے ہیں۔ گروپ نے یکم اگست 2026ء کو طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب طالبان انتظامیہ کی جانب سے جنوبی افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر اجلاس اور نگرانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ قندھار میں حال ہی میں طالبان کے صوبائی گورنروں، پولیس سربراہان اور انٹیلی جنس حکام کا اجلاس ہوا، جس میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ بڑھانے پر زور دیا گیا۔

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی جانب سے کارروائیوں کے تازہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب طالبان انتظامیہ ملک میں سکیورٹی اور اپنے انتظامی کنٹرول کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے۔ تاہم مختلف حملوں، ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق فریقین کے دعووں کی آزادانہ تصدیق کئی مواقع پر ممکن نہیں ہوپاتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے