آئی ایم ایف سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر ای ایف ایف، 21 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت ملیں گے

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان دو پروگراموں کے تحت تقریباً ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کے لیے سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے کی تکمیل پر تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے۔

یہ رقم آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کا ای ایف ایف انتظام 2024ء میں منظور ہوا تھا، جبکہ آر ایس ایف کے تحت بھی اصلاحاتی پروگرام جاری ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ستمبر 2026ء کے اختتام تک پاکستان کے لیے ای ایف ایف کے تحت تقریباً 3.04 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 30 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی رقم جاری ہوچکی تھی۔

آئی ایم ایف کے مطابق مشکل عالمی اور علاقائی حالات اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باوجود پاکستان نے مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنے میں پیش رفت کی ہے۔ فنڈ نے پاکستان کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مختلف معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کو بھی اہم قرار دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے جائزے کے مطابق پاکستان کی معیشت کو اب بھی متعدد بیرونی اور اندرونی خطرات کا سامنا ہے، جن میں جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارتی رکاوٹیں شامل ہیں۔

فنڈ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 2027ء کے بجٹ میں جی ڈی پی کے 2 فیصد کے بنیادی پرائمری سرپلس کا ہدف برقرار رکھے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام کو آسان بنانے، کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور ٹیکس وصولی کے نظام میں ڈیجیٹل انوائسنگ، آڈٹ اور تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے استعمال کو مزید بڑھانے کی سفارش بھی کی ہے۔

آئی ایم ایف نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرکاری اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ان شعبوں پر اخراجات مالی سال 2024ء میں جی ڈی پی کے 2.2 فیصد سے بڑھ کر موجودہ مالی سال میں 2.5 فیصد کیے گئے ہیں جبکہ مالی سال 2027ء میں انہیں 2.8 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

کم آمدنی والے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سماجی معاونت بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف نے وسیع پیمانے پر دی جانے والی ایندھن سبسڈی جلد ختم کرنے اور مستقبل میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں امداد کو صرف مستحق اور کمزور طبقات تک محدود رکھنے پر زور دیا ہے۔

مرکزی بینک کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب طور پر سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے، روپے کی شرح تبادلہ میں لچک قائم رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ، گردشی قرضے کے مزید اضافے کی روک تھام، بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت، مسابقت بڑھانے اور گیس کے نقصانات کم کرنے کو بھی اہم اصلاحات قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے، کاروباری مسابقت میں اضافہ کرنے، تجارتی اور ریگولیٹری رکاوٹیں کم کرنے، بدعنوانی کے خلاف ادارہ جاتی اقدامات مضبوط بنانے اور نجی سرمایہ کاری و برآمدات کے فروغ پر بھی زور دیا ہے۔

فنڈ کے مطابق پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ حاصل ہونے والے استحکام کو برقرار رکھا جاسکے اور معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔

آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت آئندہ جائزے بھی مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔ موجودہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 5.32 ارب ایس ڈی آر کی رقم مختص ہے، جبکہ آر ایس ایف کے تحت مجموعی انتظام ایک ارب ایس ڈی آر کا ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نیا سٹاف لیول معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے، مالیاتی خسارہ کم کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس وصولی کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے