غزہ میں تعلیمی نظام تباہ، 20 ہزار سے زائد طلبہ جان سے گئے

غزہ (ویب ڈیسک) غزہ میں 7 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی حملوں کے دوران 20 ہزار 500 سے زائد سکول اور یونیورسٹی کے طلبہ شہید ہوچکے ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ زخمی اور سیکڑوں تعلیمی ادارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔

فلسطینی وزارتِ تعلیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والے طلبہ میں 19 ہزار 189 سکول کے طلبہ اور ایک ہزار 386 یونیورسٹی طلبہ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 28 ہزار 586 سکول طلبہ اور 3 ہزار 82 یونیورسٹی طلبہ بھی زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران تعلیمی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا۔ اسرائیلی حملوں میں 805 سکول ملازمین اور 246 یونیورسٹی اساتذہ بھی شہید ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد زخمی ہوئے۔

فلسطینی وزارتِ تعلیم کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 179 سے زائد سرکاری سکول، اقوام متحدہ کے ادارے انروا کے زیر انتظام 105 سکول اور 63 یونیورسٹی عمارتیں تباہ یا متاثر ہوئی ہیں۔

تعلیمی اداروں کی بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث غزہ میں لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ متعدد تعلیمی عمارات جنگ کے دوران پناہ گاہوں کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہیں، جبکہ مسلسل حملوں اور بے گھری کے باعث طلبہ کے لیے معمول کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کا سلسلہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ کے دوران غزہ میں مجموعی طور پر 74 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔

غزہ میں تعلیمی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات نے جنگ کے انسانی اثرات کے ساتھ ساتھ مستقبل کی نسل کی تعلیم اور بحالی کے حوالے سے بھی بڑے چیلنجز پیدا کردیئے ہیں، کیونکہ ہزاروں طلبہ اپنے والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور تعلیمی ماحول سے محروم ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے