صدارتی نظام کو محض سیاسی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ قومی انتخاب کے طور پر دیکھا جائے

صدارتی نظام۔۔۔ وقت کی ضرورت؟
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پاکستان کا مسئلہ صرف حکومت بنانے کا نہیں، حکومت چلانے کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں حکومت بنتی ہے تو مبارک بادوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، پھر اتحادیوں کو منانے، ناراضوں کو راضی کرنے اور عددی اکثریت برقرار رکھنے میں اتنی توانائی صرف ہو جاتی ہے کہ عوامی مسائل کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت ملک چلانے سے پہلے اپنے اقتدار کا اسٹیئرنگ سنبھالنے میں مصروف ہو۔

کئی دہائیوں کے سیاسی تجربے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو ایسے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے جو فیصلہ سازی میں استحکام، پالیسی میں تسلسل اور قیادت میں واضح ذمہ داری پیدا کرے۔ اسی تناظر میں صدارتی نظام ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

صدارتی نظام کی بنیادی خوبی براہِ راست عوامی مینڈیٹ ہے۔ عوام جس قیادت کو منتخب کریں، اسے اپنی کارکردگی کی ذمہ داری بھی قبول کرنا پڑے۔ اس طرح اقتدار اور جواب دہی کے درمیان فاصلہ کم ہوتا ہے اور حکومت کو بار بار سیاسی جوڑ توڑ کے بجائے اپنی پالیسیوں پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے۔

معیشت، صنعت، توانائی، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں نتائج فوری نہیں آتے؛ ان کے لیے مستقل پالیسی اور کئی برسوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ حکومتوں کے ساتھ منصوبوں کے یتیم ہونے کی روایت ختم کرنے کے لیے پالیسی کا تسلسل ناگزیر ہے۔

صدارتی نظام کا ایک اہم فائدہ فیصلہ سازی میں وضاحت بھی ہے۔ جب اختیار اور ذمہ داری ایک واضح قیادت سے وابستہ ہوں تو کامیابی کا کریڈٹ اور ناکامی کا حساب بھی واضح رہتا ہے۔ قوم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ فیصلے کہاں ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، یوں سیاست کی وہ پیچیدہ ریاضی بھی کچھ آسان ہو جاتی ہے جس میں عوام اکثر کیلکولیٹر لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔

تاہم صدارتی نظام کا مطلب طاقت کا بے لگام ارتکاز نہیں۔ پاکستان کے لیے ایسا نظام ہی قابلِ قبول ہو سکتا ہے جس میں صدر آئین کے تابع ہو، پارلیمان مؤثر نگرانی کرے، عدلیہ آزاد ہو، انتخابات شفاف ہوں اور الیکشن کمیشن خودمختار ہو۔ صوبائی خودمختاری اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی بھی ضروری ہے تاکہ اقتدار مرکز تک محدود نہ رہے۔ اصل کامیابی نظام کے نام سے نہیں بلکہ آئینی حدود، قانون کی حکمرانی اور مضبوط اداروں سے وابستہ ہوگی۔

پاکستان نے سیاسی تجربات کی ایک طویل تاریخ دیکھی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نظامِ حکمرانی کو شخصیات اور جماعتوں کی عینک سے نکال کر قومی مفاد کی نظر سے دیکھا جائے۔ صدارتی نظام اگر براہِ راست عوامی اعتماد، حکومتی تسلسل، واضح ذمہ داری اور مؤثر فیصلہ سازی کو مضبوط آئینی نگرانی کے ساتھ یقینی بنا سکتا ہے تو اسے محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر رد کرنا مناسب نہیں۔

ہم نے حکومتیں بدلتے بہت دیکھ لیا ہے؛ اب حکمرانی کا معیار بدلنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جو اقتدار کو مقصد نہیں، قومی خدمت کا ذریعہ بنائے؛ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھے، عوام کے سامنے جواب دہ ہو اور آئین کے سامنے سرنگوں رہے۔

وقت آ گیا ہے کہ صدارتی نظام کو محض سیاسی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ قومی انتخاب کے طور پر دیکھا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے