گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)زندہ بھٹو زندہ رہا تو کیا ہوا؟ جب گوٹھ خدا بخش لغاری جیسے گاؤں آج بھی پختہ سڑک، صاف پانی، نکاسی آب اور بنیادی صحت کی سہولتوں سے محروم ہوں تو نعرے صرف نعرے ہی رہ جاتے ہیں۔ سندھ کے ضلع گھوٹکی، تحصیل میرپور ماتھیلو کی یونین کونسل جروار میں واقع یہ گاؤں میڈیا کی بار بار کی خبروں اور رہائشیوں کی مسلسل فریادوں کے باوجود حکومتی اداروں کی غفلت کا زندہ ثبوت بن چکا ہے۔
مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ پختہ رابطہ سڑک، صاف پینے کا پانی، نکاسی آب، صفائی ستھرائی اور بنیادی طبی سہولتیں آج بھی جوں کے توں غائب ہیں۔ وہ تلخی سے پوچھتے ہیں کہ اگر میڈیا کی آواز اور عوامی فریادیں بھی حکام کو جگا نہیں سکتیں تو عام آدمی اپنی آہ کہاں لے جائے۔
گاؤں کی رابطہ سڑک اتنی خستہ حال ہے کہ طلبہ، خواتین، بزرگ اور مریض روزانہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ بارش ہو یا دھوپ، آمدورفت ایک عذاب بن چکی ہے۔ صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی، صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان اور سکول تک نہ ہونا مکینوں کی تکالیف میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ نکاسی آب کا نظام نہ ہونے کے باعث گلیاں اکثر گندے پانی سے بھری رہتی ہیں اور صفائی کا کوئی باقاعدہ نظام بھی موجود نہیں۔ بلدیاتی اداروں کی فہرست میں شاید یہ گاؤں ہے ہی نہیں۔ صرف الیکشن کے دنوں میں سیاسی مداری اور فصلی بیٹیرے اس گوٹھ کو یاد کرتے ہیں، الیکشن ختم ہوتے ہی تمام معاملات ختم ہو جاتے ہیں۔
رہائشیوں نے حکام بالا اور ”بھٹو زندہ ہے“ کے نام پر ووٹ لینے والے سیاسی لیڈروں سے دو ٹوک سوالات کیے ہیں کہ کیا گاؤں کا سرکاری سروے کیا گیا؟ کیا کوئی افسر موقع پر آیا؟ کیا کوئی رپورٹ تیار ہوئی؟ کیا کوئی ترقیاتی منصوبہ منظور ہوا؟ اور اگر منصوبہ ہے تو کام کب شروع ہوگا؟ وہ کہتے ہیں کہ اب انہیں زبانی یقین دہانیوں کی نہیں بلکہ شفاف رپورٹ اور واضح ٹائم لائن کی ضرورت ہے۔
مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، اسسٹنٹ کمشنر میرپور ماتھیلو، یونین کونسل جروار سمیت محکمہ بلدیات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، صحت، ورکس اینڈ سروسز، آبپاشی اور دیہی ترقی کے تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر گاؤں کا تفصیلی سروے کرایا جائے۔ سروے کے بعد ہر شعبے کے مسائل، مطلوبہ کام اور مالی ضروریات پر مشتمل رپورٹ تیار کی جائے تاکہ معاملہ صرف خبروں اور نعروں تک محدود نہ رہے۔
ابھی تک ضلعی اور تحصیل انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، صحت، پبلک ہیلتھ اور ورکس اینڈ سروسز سمیت کسی بھی متعلقہ محکمے کی جانب سے اس گاؤں کے مسائل یا میڈیا رپورٹس کے بعد کیے گئے اقدامات کے بارے میں کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ متعلقہ حکام سے مؤقف طلب کیا گیا ہے، جواب موصول ہوتے ہی اسے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
گوٹھ خدا بخش لغاری کے باسی اب واضح پیغام دے رہے ہیں کہ زندہ بھٹو زندہ رہا تو کیا ہوا؟ جب زمینی سطح پر غفلت جاری ہو تو نعرے اور خبریں سب بیکار ثابت ہوتے ہیں۔ انہیں اب عملی اقدام چاہیے!