نصراللہ خان بابا ۔۔۔ ایک درویش صفت انسان کی روشن یاد
تحریر: منور شاہ منور
بعض شخصیات تاریخ کی کتابوں میں کم اور لوگوں کے دلوں میں زیادہ زندہ رہتی ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ نہ بڑے عہدوں کی طویل فہرست ہوتی ہے، نہ شہرت کے چرچے، مگر ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ انسان دوستی، خلوص، رواداری اور خدمتِ خلق کی ایسی داستان بن جاتا ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔ نصراللہ خان بابا بھی انہی درویش صفت شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنے کردار، اپنے حجرے اور اپنی محبت سے اہلِ علاقہ کے دلوں میں ایک مستقل جگہ بنائی۔
نصراللہ خان بابا کا تعلق اصحاب بابا، چغرمٹی کے ایک معزز اور باوقار خاندان سے تھا۔ وہ محض ایک خاندان کے سربراہ نہیں بلکہ اپنے علاقے کی سماجی زندگی کا ایک معتبر حوالہ تھے۔ ان کی شخصیت میں روایتی پشتون اقدار، وضع داری، خودداری، مہمان نوازی اور انسان دوستی اس طرح گھلی ملی تھی کہ جو شخص ایک مرتبہ ان کے حجرے میں بیٹھتا، وہ ان کی محبت اور اپنائیت کا اسیر ہوئے بغیر نہ رہتا۔
ان کا حجرہ محض اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ایک عمارت نہیں تھا؛ یہ مسافروں کے لیے آسرا، غریبوں کے لیے سہارا، دوستوں کے لیے بیٹھک اور اہلِ علاقہ کے لیے ایک ایسا مقام تھا جہاں دلوں کی باتیں بھی ہوتیں اور مسائل کے حل بھی تلاش کیے جاتے۔ خصوصاً اصحاب بابا کے مزار پر دور دراز علاقوں سے آنے والے زائرین کے لیے نصراللہ خان بابا کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا۔ ان کے لیے روٹی، چائے اور رات گزارنے کا بندوبست کرنا ان کی زندگی کا معمول تھا۔ مہمان ان کے ہاں صرف مہمان نہیں ہوتا تھا، بلکہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک قابلِ احترام انسان ہوتا تھا۔
یہی وہ وصف ہے جو کسی انسان کو محض صاحبِ حیثیت سے صاحبِ دل بناتا ہے۔
نصراللہ خان بابا کی شخصیت میں جرگہ نشینی کی روایت بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی۔ وہ لوگوں کو جوڑنے والے انسان تھے۔ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں کم کرنا، ناراض لوگوں کے درمیان صلح کی راہ نکالنا اور اجتماعی معاملات میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ان کی طبیعت کا حصہ تھا۔ ان کی مجلس میں عمر، مرتبے اور مالی حیثیت کی بنیاد پر کوئی اونچ نیچ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ انسان کو پہلے انسان سمجھتے تھے اور یہی ان کی اصل عظمت تھی۔
ان کی ملنساری اور خودداری ایک ساتھ چلتی تھیں۔ وہ دوسروں کے احترام میں کبھی کمی نہیں کرتے تھے، مگر اپنی عزتِ نفس پر بھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے۔ ایسی شخصیات دراصل معاشرے کا اخلاقی سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کے پاس دولت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، مگر ان کے پاس جو چیز ہوتی ہے وہ اعتماد ہوتا ہے—اور اعتماد کسی بازار میں خریدنے سے نہیں ملتا، اسے برسوں کے کردار سے کمایا جاتا ہے۔
نصراللہ خان بابا کے حجرے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بھی ان سے ملاقات کے لیے ان کے حجرے میں تشریف لائے۔ یہ واقعہ اس عہد کی سماجی فضا، باہمی روابط اور نصراللہ خان بابا کی شخصی وقعت کی ایک قابلِ ذکر جھلک پیش کرتا ہے۔ باچا خان جیسی عظیم شخصیت کی آمد کسی بھی حجرے کے لیے اعزاز کی بات تھی، مگر نصراللہ خان بابا کے لیے شاید یہ بھی ان کے معمول کی مہمان نوازی کا ایک حصہ تھا؛ کیونکہ ان کے نزدیک مہمان کا مرتبہ نہیں، مہمان ہونا اہم تھا۔
ان کی زندگی کا ایک بڑا وصف خدمتِ خلق تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھا۔ کسی ضرورت مند کی مدد ہو، کسی مسافر کو ٹھکانہ دینا ہو، کسی پریشان حال شخص کے لیے آواز اٹھانی ہو یا اجتماعی معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو، نصراللہ خان بابا پیچھے رہنے والے انسان نہیں تھے۔ ان کی خدمت کا انداز نمود و نمائش سے پاک تھا۔ شاید اسی لیے ان کی خدمات کا چرچا کم، مگر ان کی محبت کا دائرہ بہت وسیع تھا۔
اہلِ علاقہ کا ان سے بے پناہ پیار بھی اسی کردار کا فطری نتیجہ تھا۔ محبت کبھی حکم سے حاصل نہیں ہوتی؛ اسے رویوں، قربانیوں اور خلوص سے جیتنا پڑتا ہے۔ نصراللہ خان بابا نے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ کسی منصب یا اختیار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور کردار سے بنائی۔
قدرت نے انہیں خداداد صلاحیتوں سے بھی نوازا تھا۔ وہ لوگوں کو سمجھنے، حالات کو بھانپنے اور اجتماعی معاملات میں مناسب طرزِ عمل اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی اوصاف انہیں محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنے علاقے کی سماجی زندگی کا ایک اہم کردار بناتے تھے۔
ان کی شخصیت کا ایک اور خوب صورت پہلو ان کی اولاد کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ نصراللہ خان بابا کے صاحبزادوں میں کرامت اللہ خان چغرمٹی، جو خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر رہے، اور رضاء اللہ خان، جو ضلع پشاور کے سابق نائب ناظم اعلیٰ رہے، نمایاں شخصیات ہیں۔ والدین کی اصل میراث صرف جائیداد نہیں ہوتی؛ کردار، وضع داری، خدمت اور لوگوں کے ساتھ تعلق بھی نسلوں تک منتقل ہونے والی دولت ہے۔ نصراللہ خان بابا کی زندگی میں یہ اخلاقی میراث نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
آج جب معاشرتی زندگی میں حجرے کی رونقیں ماند پڑ رہی ہیں، جرگے کی روایت اپنے روایتی مفہوم سے دور ہوتی جا رہی ہے اور مہمان نوازی بھی اکثر رسمی جملوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، ایسے میں نصراللہ خان بابا جیسی شخصیات کی یاد اور بھی قیمتی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا زمانہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک شخص بغیر کسی بڑے منصب کے بھی اپنے علاقے میں ایک ادارے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے؛ بشرطیکہ اس کے دل میں لوگوں کے لیے جگہ ہو۔
نصراللہ خان بابا کی زندگی دراصل ایک ایسے معاشرتی کردار کی تصویر ہے جس میں حجرہ بھی تھا، جرگہ بھی؛ مہمان نوازی بھی تھی، خودداری بھی؛ ملنساری بھی تھی، اصول پسندی بھی؛ اور سب سے بڑھ کر انسان دوستی تھی۔
وقت گزر جاتا ہے، چہرے اوجھل ہو جاتے ہیں، حجرے خاموش ہو جاتے ہیں، مگر اچھے انسانوں کی خوشبو باقی رہتی ہے۔ وہ اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں چھوڑتے بلکہ ایک روایت چھوڑ جاتے ہیں۔ نصراللہ خان بابا بھی ایسی ہی ایک روشن روایت کا نام ہیں۔
اصحاب بابا اور چغرمٹی کی سماجی تاریخ میں ان کا ذکر محض ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے درویش صفت، جرگہ نشین، خوددار اور مہمان نواز انسان کے طور پر ہونا چاہیے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ لوگوں کو جوڑنے، مسافروں کو سہارا دینے اور اپنے علاقے کی خدمت میں گزارا۔
ایسے لوگ بظاہر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ اپنے کردار کے ذریعے اپنے لوگوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
نصراللہ خان بابا کا حجرہ آج بھی پہلے جیسا بارونق ہے، مگر ان کی مہمان نوازی، ان کی محبت اور ان کی خدمت کی روایت آج بھی ان لوگوں کی یادوں میں آباد ہے جنہوں نے کبھی اس دروازے سے وابستگی محسوس کی تھی۔ یہی ایک انسان کی سب سے بڑی کمائی ہے—کہ اس کے بعد بھی لوگ اسے محبت سے یاد کریں۔