گل محمد بیتاب: پشتو ادب اور صحافت کی سلطنت کا بے تاج بادشاہ
تحریر: منورشاہ منور
کچھ لوگ وقت کے ساتھ چلتے ہیں، کچھ وقت کی گرد میں کہیں گم ہوجاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے عہد کے ماتھے پر لفظوں کی ایسی تحریر ثبت کر جاتے ہیں جسے زمانہ آسانی سے مٹا نہیں پاتا۔ ان کے لیے قلم محض اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتا، بلکہ احساس کی زبان، ضمیر کی آواز اور معاشرے کے آئینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ جو لکھتے ہیں، اسے پڑھا ہی نہیں جاتا بلکہ محسوس بھی کیا جاتا ہے۔
گل محمد بیتاب بھی اسی قبیلۂ اہلِ قلم کے ایک ایسے مسافر ہیں جنہوں نے نصف صدی کے قریب پھیلے اپنے تخلیقی سفر میں صحافت، ادب، شاعری، کالم نگاری، تحقیق، انٹرویو اور ریڈیو ڈرامہ نگاری کے میدانوں میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ ان کا قلم کبھی خبر کی صورت میں بولا، کبھی کالم کے پیرائے میں مسکرایا، کبھی ڈرامے کے کرداروں میں سانس لیتا دکھائی دیا اور کبھی شعر کے پیکر میں دل کی بات کہہ گیا۔
9 فروری 1965ء کو پشاور کے نواحی علاقے چمکنی میں آنکھ کھولنے والے گل محمد بیتاب کے والد گرامی سلطان محمد شنواری زمیندار تھے۔ چمکنی کی مٹی، پشاور کی علمی و تہذیبی فضا اور پشتون معاشرے کی روایتی اقدار نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان کا ادبی تخلص "بیتاب” ہے؛ اور عجیب اتفاق ہے کہ یہ نام ان کی تخلیقی طبیعت پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔ دل میں خیال کا چراغ روشن ہو تو آدمی کب چین سے بیٹھتا ہے؟ ایک سوال جنم لیتا ہے تو دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے، ایک لفظ ہاتھ آتا ہے تو اس کے پیچھے پوری کہانی چل پڑتی ہے۔ یہی بے قراری شاید بیتاب کے قلم کی اصل توانائی ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم چمکنی سے حاصل کی، پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور 1992ء میں پشتو زبان و ادب میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے ذہین، بیدار مغز اور مطالعہ و تحریر کے شوقین تھے۔ کتاب سے رشتہ قائم ہوا تو پھر عمر بھر قائم رہا۔ لکھنے کا شوق آہستہ آہستہ عادت بنا، عادت نے جنون کی صورت اختیار کی اور یہی جنون انہیں صحافت کی اس دنیا میں لے گیا جہاں لفظوں کو روزانہ کی بنیاد پر زندگی کے تلخ و شیریں حقائق سے کشتی لڑنا پڑتی ہے۔
1989ء سے 1999ء تک کا زمانہ گل محمد بیتاب کی صحافتی زندگی کا نہایت اہم باب ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے مختلف اخبارات سے وابستہ ہوکر اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ ان کا صحافتی سفر باگرام پشتو اخبار سے شروع ہوا، جو ہمایش خلیل کی ملکیت تھا۔ بعدازاں وحدت پشتو سے وابستہ ہوئے، جسے پیر سفید شاہ ہمدرد شائع کرتے تھے۔ پھر روزنامہ ہیواد پشتو میں خدمات انجام دیں، جس کے مدیر و ناشر سلطان محمد صابر تھے، اور بعد میں فرنٹیئر پوسٹ سے بھی وابستہ رہے۔
غازی اخبار میں بھی ان کی صحافتی خدمات نمایاں رہیں۔ جب روزنامہ کسوٹی اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں منظرِ عام پر آیا تو بیتاب کو پشتو کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ بعدازاں روزنامہ میدان میں ترجمان کی حیثیت سے اپنی قلمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اخبار صرف کاغذ کا ایک پلندہ نہیں بلکہ معاشرے کی نبض ہوا کرتا تھا۔ خبر کی خوشبو، اداریے کی کاٹ، کالم کی چبھن اور تجزیے کی گہرائی اخبار کے صفحات میں سانس لیتی تھی۔ بیتاب نے اسی عہد میں قلم کو اپنا رفیق بنایا اور پھر اسے محض الفاظ جوڑنے کا ہنر نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے اور سمجھانے کا وسیلہ بنا لیا۔
روزنامہ ہیواد میں وہ انگریزی اخبارات سے خبروں اور مضامین کے پشتو تراجم کیا کرتے تھے۔ سیاسی حالات و واقعات پر ان کے روزانہ تبصرے "جاج اونظر” کے عنوان سے شائع ہوتے رہے۔ کسوٹی میں ان کا کالم "فکاہ بہ” قارئین کی توجہ کا مرکز بنتا رہا، جبکہ "اوراو بہ” یعنی "آگ اور پانی” کے عنوان سے بھی انہوں نے اپنے قلم کی جولانیاں دکھائیں۔ روزنامہ میدان میں ان کا اردو کالم "کاکاجی” کے نام سے شائع ہوتا تھا۔
ان کے کالموں میں محض الفاظ کی آرائش نہیں تھی؛ حالاتِ حاضرہ کی دھڑکن بھی تھی، معاشرتی رویوں کی پہچان بھی اور انسانی زندگی کے تضادات کا مشاہدہ بھی۔ وہ موضوع کو صرف دیکھتے نہیں تھے، اس کے اندر اترنے کی کوشش کرتے تھے۔ شاید اسی لیے ان کی تحریر میں خبر سے آگے بڑھ کر زندگی بولتی تھی۔
گل محمد بیتاب کی شخصیت کا حسن یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو کسی ایک ادبی صنف کی چار دیواری میں مقید نہیں کیا۔ صحافت ہو یا شاعری، کالم ہو یا تحقیق، انٹرویو ہو یا ڈرامہ، ریڈیو ہو یا کتاب—انہوں نے ہر میدان میں اپنے قلم کی آزمائش کی اور ہر جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
وہ بے باکی سے لکھتے رہے، کیونکہ ان کے نزدیک قلم محض معاش کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی امانت تھا۔ ان کی تحریروں میں معاشرے کے مسائل کا شعور، زندگی کے تجربات کی پختگی اور انسان کے دکھ سے ایک فطری وابستگی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شخصیت میں شرافت، انسان دوستی اور غریب پروری کے اوصاف نے بھی انہیں عام لوگوں کے قریب رکھا۔
صحافت کے میدان میں ان کا ایک اہم اور یادگار کام پشتو کے نامور شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم کے انٹرویوز اور حالاتِ زندگی کو قلم بند کرنا ہے۔ روزنامہ غازی کے لیے انہوں نے بیس سے زائد معروف پشتو شعرا و ادبا کے انٹرویوز کیے اور ان کی زندگی، فکر اور ادبی خدمات پر مضامین لکھے۔
ان شخصیات میں حمزہ بابا شنواری، قلندر مومند، ہمیش خلیل، محمد صدیق پسرلے، پروفیسر صاحبزادہ حامد اللہ شاہین، محمد نواز طاہر، درویش درانی، راج ولی شاہ خٹک، مراد شنواری، فضل ربی پردیسی، ڈاکٹر اسرار، شیر علی باچا، مولانا محمد امیر بجلی گھر، ارباب جہانگیر خان خلیل اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ سمیت کئی معروف نام شامل ہیں۔
یہ کام محض چند شخصیات کے انٹرویوز نہیں تھے؛ دراصل یہ ایک ایسے ادبی عہد کے نقوش محفوظ کرنے کی کوشش تھی جو اگر قلم کی گرفت میں نہ آتا تو شاید وقت کی گرد میں دھندلا جاتا۔ بیتاب نے سوال پوچھے، جواب سمیٹے اور پھر انہیں تحریر کی صورت میں آنے والی نسلوں کے حوالے کردیا۔ یہی کام ایک صحافی کو محض خبر نویس سے تاریخ کا خاموش گواہ بنا دیتا ہے۔
اگر صحافت بیتاب کے قلم کی پہلی بڑی منزل تھی تو ریڈیو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایسا میدان ثابت ہوا جہاں لفظوں کو آواز، کردار اور زندگی ملی۔
1992ء میں انہوں نے ریڈیو کے لیے اپنا پہلا ڈرامہ "شوشائی” تحریر کیا، جسے سامعین میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد "رواج” سمیت متعدد ڈرامے لکھے۔ "فالی” اور "درانہ غواگونہ” بھی ان کی ڈرامہ نگاری کا حصہ ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے لیے ان کی خدمات کا دائرہ خاصا وسیع رہا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر فیچرز، پروگرام اور ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی تخلیقی کاوشوں میں تیرہ ڈراموں پر مشتمل سیریز "اوزګاره بې بې” خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس نوعیت کی طویل تخلیقی کاوش محض الفاظ کی روانی نہیں مانگتی بلکہ موضوع پر گرفت، کرداروں کی تشکیل، مکالمے کی برجستگی اور مسلسل تخلیقی یکسوئی بھی چاہتی ہے۔
اسلامی اور مذہبی موضوعات پر بھی انہوں نے قابلِ ذکر کام کیا۔ موطا امام مالک، "زمونږ امامان” اور ازواجِ مطہرات کے حوالے سے "نوموړې بي بيانې” جیسے پروگرام ان کے موضوعاتی تنوع کا پتا دیتے ہیں۔
اسی طرح زراعت کے موضوع پر ان کا پروگرام "باغوان” بھی سامعین میں مقبول ہوا۔ یوں انہوں نے ریڈیو کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے تعلیم، آگاہی، اصلاح، ادب اور معاشرتی شعور کے فروغ کا ایک مؤثر وسیلہ بنایا۔
گل محمد بیتاب کی ڈرامہ نگاری میں "نمر پہ چنارون” ایک نمایاں باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2012ء میں تحریر کیا جانے والا یہ ڈرامہ سیریل 223 اقساط پر مشتمل تھا۔ دو سو سے زیادہ اقساط پر مشتمل ایک مسلسل ڈرامہ لکھنا صرف تخلیقی صلاحیت ہی نہیں بلکہ غیر معمولی محنت، تسلسل، مشاہدے اور کرداروں کو زندہ رکھنے کا فن بھی چاہتا ہے۔
دسمبر 2008ء سے وہ پسکیٹ ریڈیو کے چیف ایڈیٹر اور ریہرسل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ 2009ء میں ایک منصوبے کے تحت "قدم پہ قدم” پروگرام لکھتے رہے۔ 2013ء میں ایک اور منصوبے میں رابطہ کار اور سیکرٹری کنسلٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ نومبر 2013ء سے آئی آر ڈی کے لیے ڈرامہ رائٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔
یہ طویل سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بیتاب کا قلم صرف کاغذ پر نہیں چلتا تھا؛ وہ مائیک کے سامنے بھی زندہ ہوتا تھا، کرداروں کی زبان سے بولتا تھا اور مکالموں کے ذریعے سامعین کے دلوں تک اترتا تھا۔
صحافت اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ گل محمد بیتاب نے پشتو ادب میں بھی اپنی ایک معتبر شناخت قائم کی۔ وہ کامل پشتو ادبي جرګه، سرحد ادبي ټولنه اور ساھوليک نومرکہ جیسے ادبی حلقوں کے مستقل رکن رہے اور باقاعدگی سے مشاعروں میں شرکت کرتے رہے۔
وہ خود شعر کہتے ہیں اور شعراء و ادباء کی صحبت کو پسند کرتے ہیں۔ اہلِ قلم کی محفلیں ان کے لیے محض نشستیں نہیں بلکہ فکر کی آبیاری کے چشمے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ اپنے ساتھ ایک تہذیبی پس منظر، ایک سماجی احساس اور ایک انسانی تجربہ لے کر آتا ہے۔
ان کی تصانیف کا سفر بھی ان کے وسیع ادبی ذوق کا آئینہ دار ہے، جن میں "قافلہ” (شاعری، 1989ء)، "چرنڑوتوت”، "تکلونہ خاکي” (2017ء)، "روخانہ سھرے خاکي” (2018ء)، "د دستار سڑی خاکي” (2019ء)، "د علم خار” (ریڈیائی فیچرز، 2020ء)، "تاریخي مرکې” (نامور لکھاریوں کے انٹرویوز، 2022ء)، "باچا خان” (ڈرامہ، 2023ء)، "د سر سڑی” (2023ء)، "خوشحال خان خټک” (ڈرامہ، 2023ء)، "د کار سڑی خاکي” (2024ء)، "د اباسین پہ غاڑہ خاکي” (2025ء) اور "د شمار سڑی خاکي” (2026ء) شامل ہیں۔
یہ کتابیں محض تصانیف کی فہرست نہیں بلکہ ایک ایسے قلم کار کے سفر کی منزلیں ہیں جس نے وقت کے ساتھ اپنے موضوعات، اسلوب اور اظہار کے دائرے کو مسلسل وسیع کیا۔
ہر تخلیق کار کے سفر میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب برسوں کی محنت کو کسی بڑے اعتراف کی صورت میں آواز ملتی ہے۔ گل محمد بیتاب کے لیے ایسا ہی ایک یادگار لمحہ ان کی نثری کتاب "د اباسین پہ غاڑہ” کی پذیرائی ہے۔
اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کی جانب سے اس کتاب کو اجمل خٹک ایوارڈ سے نوازا گیا اور دو لاکھ روپے کی انعامی رقم کے ساتھ بہترین پشتو نثر کی کتاب قرار دیا گیا۔
ایک قلم کار کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہوگی کہ جس زبان کی خدمت کو اس نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا، اسی زبان میں اس کی تخلیقی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ یہ اعزاز بیتاب کی ادبی جدوجہد کے سفر میں ایک روشن سنگِ میل ہے۔
گل محمد بیتاب کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی ادبی شناخت کے ساتھ ان کی انسانی شناخت بھی مضبوط ہے۔ شرافت، اعلیٰ اخلاقی اقدار، سادگی اور غریب پروری ان کے مزاج کا حصہ ہیں۔ یہی اوصاف کسی بھی قلم کار کو محض لکھنے والے شخص سے اٹھا کر ایک قابلِ احترام شخصیت بنا دیتے ہیں۔
ان کی شریکِ حیات ملک بہادر خان کی صاحبزادی ہیں۔ 2010ء میں انہیں عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی، جبکہ 2012ء میں حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوئے۔
گل محمد بیتاب کی زندگی کو کسی ایک عنوان میں قید کرنا آسان نہیں۔ وہ صحافی بھی ہیں، شاعر بھی؛ کالم نگار بھی ہیں، ڈرامہ نویس بھی؛ محقق بھی ہیں، انٹرویو نگار بھی؛ ریڈیو کے تخلیق کار بھی ہیں اور کتاب کے خاموش مگر مسلسل مسافر بھی۔
انہوں نے صحافت میں اپنے عہد کی آواز کو محفوظ کیا، کالم میں معاشرے کے چہرے دکھائے، انٹرویوز کے ذریعے اہلِ علم و ادب کی یادیں سمیٹیں، ریڈیو پر کرداروں کو زبان دی، ڈراموں میں زندگی کے رنگ بھرے، شاعری میں دل کی دھڑکن سنائی اور کتابوں کے ذریعے اپنے عہد کے ادبی و تہذیبی نقوش محفوظ کیے۔
اصل قلم کار وہ نہیں جو صرف بہت کچھ لکھ دے؛ اصل قلم کار وہ ہے جو اپنے لکھے ہوئے میں اپنا عہد، اپنی مٹی، اپنے لوگ اور اپنا دل رکھ دے۔ گل محمد بیتاب کے تخلیقی سفر میں یہی وصف نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
وہ لفظوں کے ایسے مسافر ہیں جنہوں نے زندگی کے راستوں سے لفظ چنے، انہیں احساس کی آنچ میں پگھلایا اور پھر تحریر کی صورت میں قارئین و سامعین کے سامنے رکھ دیا۔
کچھ چراغ ہوا کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، کچھ اپنے اندر روشنی کا ایک مستقل چشمہ رکھتے ہیں۔ بیتاب کا قلم بھی اسی چراغ کی مانند ہے—جو موسموں کی تبدیلی سے بے نیاز، لفظوں کی لو لیے، اپنے سفر پر رواں ہے۔
دعا ہے کہ یہ قلم یونہی چلتا رہے، اس کی روشنائی کبھی خشک نہ ہو، لفظوں کی یہ خوشبو پشتو ادب کی وادیوں میں یونہی بکھرتی رہے، اور گل محمد بیتاب کا نام آنے والے زمانوں میں بھی اس عہد کے ان اہلِ قلم میں لیا جائے جنہوں نے قلم کو محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیب، انسان اور سچائی کی امانت سمجھ کر برتا۔