اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے نام نہاد وزیر برائے سرحدات اور دیگر ترجمانوں کی جانب سے نورستان میں جاری لڑائی کو پاکستان سے منسوب کرنے کے تازہ الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں خود ساختہ اور جھوٹے قرار دے دیا ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ الزامات درحقیقت طالبان حکومت کو درپیش سنگین داخلی جبر، اختلاف اور عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ایک غیر جامع اور غیر نمائندہ حکومت ہے جو زور و جبر کے ذریعے افغانستان کے عوام پر مسلط کی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ان مضحکہ خیز بیانات اور اس کے بعد پاکستان کی طرف متوجہ کی جانے والی بیانیہ دراصل ان کی اپنی اندرونی ناکامیوں، مایوسی اور ناامیدی کی عکاسی کرتے ہیں۔ چند افغان رہنما پیسوں کے لالچ میں ہندوتوا کے ناپاک عزائم کی پراکسی کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو خطے کو غیر مستحکم کرنے کا ایک رینٹیر (کرایہ دار) رویہ ہے۔
فیکٹ چیک میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنے غیر اسلامی عمل یعنی دہشت گردی کی سرپرستی اور سہولت کاری سے جان بوجھ کر غافل ہیں۔ ایجنسیوں کے پراکسی کے طور پر پیسے کے عوض خطے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی یہ پالیسی طالبان حکومت کو خود تباہی کے راستے پر لے جا رہی ہے، جو عزت و وقار سے مکمل طور پر عاری ہے۔
وزارت اطلاعات نے زور دیا کہ افغان طالبان کی یہ الزام تراشی ان کے داخلی مسائل کو بیرونی طور پر پیش کرنے کی ایک ناکام حکمت عملی ہے اور پاکستان اس قسم کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

