ڈیرہ غازیخان (کیو این این ورلڈ): پنجاب حکومت کے فلیگ شپ پروگرام ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ کے تحت پہلی قسط حاصل کرنے والے ہزاروں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسری قسط بروقت نہ ملنے سے ان کے گھروں کے ڈھانچے خالی دیواروں اور نامکمل تعمیرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، جبکہ موسم کی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی تعمیراتی لاگت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے دوسری قسط کا انتظار ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث بلڈنگ میٹریل، اینٹیں، سیمنٹ، بجری، سریا اور ٹی آر گاڈر کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ آج سیمنٹ کی بوری 1600 سے 1630 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ سریا اور دیگر لوہے کا نرخ بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے ملنے والی ممکنہ دوسری قسط (تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار روپے) میں گھر بنانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق پہلی قسط ملنے کے بعد انہوں نے گھر کی تعمیر شروع کی اور دستیاب رقم سے بنیادیں، دیواریں اور تعمیر کے دیگر مراحل مکمل کیے، تاہم دوسری قسط کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث تعمیراتی کام رک گیا ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دوسری قسط مزید تاخیر سے جاری ہوئی تو موجودہ قیمتوں میں تعمیر مکمل کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث جو رقم چند ماہ قبل تعمیر کے ایک مرحلے کے لیے کافی تھی، اب اسی رقم سے سے بقیہ تعمیر تقریباََ ناممکن ہوچکی ہے۔ ایسے میں دوسری قسط میں تاخیر صرف وقت کا مسئلہ نہیں بلکہ مستحق خاندانوں کے لیے براہ راست اضافی مالی بوجھ کا سبب بن رہی ہے۔
پنجاب بینک کے ذرائع کے مطابق بینک میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے دوسری قسط آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن شہریوں کو پہلی قسط مل چکی ہے، دوسری قسط کی ادائیگی سے قبل گریس پیریڈ مکمل ہونے پر تقریباً 7 ہزار روپے ماہانہ قسط ادائیگی کی کالیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف دوسری قسط نہیں مل رہی جبکہ دوسری جانب قرض کی ماہانہ قسط کی ادائیگی کے لیے کالز موصول ہونا ان کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
دوسری قسط میں تاخیر کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ پنجاب بلال یاسین نے بھی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو پہلی قسط کے بعد مقررہ مدت میں دوسری قسط کی ادائیگی یقینی بنانے، غیر ضروری تاخیر ختم کرنے اور درخواستوں کی جانچ پڑتال میں رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ تاہم متاثرہ شہریوں کے مطابق وزیر ہاؤسنگ کا نوٹس بھی دوسری قسط دلانے میں ناکام ثابت ہوا ہے کیونکہ ہزاروں شہری اب بھی دوسری قسط کے منتظر ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی وزیر کی ہدایات کے باوجود دوسری قسط جاری نہیں ہو رہی تو اس کی وجوہات واضح کی جانی چاہئیں اور متعلقہ بینک و اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ مستحق شہریوں کے معاملات جلد نمٹائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف نوٹس لینے یا ہدایات جاری کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ عملی طور پر رکی ہوئی اقساط جاری کرنا ضروری ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ سکیم کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنے گھر کی تعمیر میں مدد فراہم کرنا ہے، لیکن دوسری قسط کی تاخیر نے اسی مقصد کو متاثر کر دیا ہے۔ پہلی قسط حاصل کرنے والے خاندانوں نے اپنی استطاعت کے مطابق تعمیر شروع کر دی، مگر دوسری قسط نہ ملنے سے متعدد گھروں کی تعمیر ادھوری رہ گئی ہے۔
شہریوں کے مطابق نامکمل گھروں کی وجہ سے انہیں نہ صرف مالی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ موسم کی شدت، بارش اور دیگر موسمی اثرات کے باعث تعمیر شدہ دیواروں اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اگر دوسری قسط بروقت جاری نہ ہوئی تو تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں مزید اضافے کے باعث ان خاندانوں کے لیے گھر مکمل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ پنجاب بلال یاسین اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دوسری قسط کی تاخیر کا فوری نوٹس لینے کے بجائے عملی اقدامات کرتے ہوئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور پہلی قسط حاصل کرنے والے تمام اہل شہریوں کو دوسری قسط بلا تاخیر جاری کی جائے تاکہ نامکمل ڈھانچے مکمل گھروں میں تبدیل ہو سکیں اور مستحق خاندان مزید مالی مشکلات سے بچ سکیں۔
یاد رہے کہ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ سکیم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر 2024 میں شروع کی گئی تھی۔ اس کے تحت پنجاب کے مستحق شہریوں (جو اپنے چھوٹے پلاٹ کے مالک ہوں) کو گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک کا مکمل بلاسود قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ شہری علاقوں میں 5 مرلہ اور دیہی علاقوں میں 10 مرلہ تک کے پلاٹ کے مالکان اہل ہیں۔ اہلیت کی اہم شرائط میں پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا، عمر 21 سے 60 سال، پی ایس ای آر/این ایس ای آر میں پی ایم ٹی اسکور 60 یا کم، کوئی بینک ڈیفالٹر نہ ہونا اور صاف ریکارڈ شامل ہیں۔