ایران کا امریکی فضائی پابندیوں کے خلاف عالمی اداروں سے رجوع

تہران (کیو این این ورلڈ): ایران نے اپنی ایوی ایشن انڈسٹری پر امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی کارروائی شروع کردی ہے، ایرانی حکام کے مطابق امریکی پابندیوں کے باعث فضائی صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے اور بعض پروازیں بھی منسوخ ہوئی ہیں۔

ایرانی سرکاری خبررساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق سول ایوی ایشن کے سربراہ ابوذر شیرازی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی فضائی صنعت کے جائز حقوق کے دفاع اور امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) میں باضابطہ احتجاج جمع کرا دیا ہے۔

ابوذر شیرازی کے مطابق ایران نے یہ اقدام اپنی فضائی صنعت پر عائد پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور ایوی ایشن کے شعبے میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکی پابندیوں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے تعاون سے عالمی عدالت انصاف سے بھی رجوع کیا ہے۔

ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں سے رجوع کا مقصد ایران کی فضائی صنعت کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا اور امریکی پابندیوں کے خلاف قانونی سطح پر کارروائی کرنا ہے۔

انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن اقوام متحدہ کے نظام سے وابستہ ادارہ ہے جو عالمی سطح پر شہری ہوابازی کے معیارات اور اصولوں کے حوالے سے کام کرتا ہے اور اس کا صدر دفتر کینیڈا کے شہر مونٹریال میں قائم ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی فضائی صنعت کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے اور بعض پروازوں کی منسوخی سمیت بیرون ملک ایرانی ایئرلائنز کو خدمات کے حصول میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر 2026 کو ایران کے ایوی ایشن شعبے سے منسلک 36 اداروں اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کے ایوی ایشن شعبے سے متعلق ان نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر واشنگٹن کا الزام ہے کہ وہ ہتھیاروں، اہلکاروں اور غیر قانونی سامان کی منتقلی یا امریکی ساختہ طیاروں اور حساس ٹیکنالوجی کے حصول میں معاونت کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں میں متعدد ایرانی ایئرلائنز کے علاوہ ایران کی فضائی صنعت سے منسلک بعض غیر ملکی ادارے، درمیانی کمپنیوں اور دیگر کاروباری نیٹ ورکس بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروباری معاملات کرنے والے بعض غیر ملکی اداروں کو بھی پابندیوں کے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

امریکی اقدامات کے تحت سول ایوی ایشن سے متعلق بعض سابقہ اجازت ناموں کو بھی معطل کیا گیا ہے، جن میں بعض سول طیاروں کو ایران لے جانے اور متعلقہ معاملات سے متعلق اجازت شامل ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو اپنی فضائی صنعت اور مسافروں کیلئے مشکلات کا باعث قرار دیا ہے۔ ایران کی جانب سے عالمی اداروں سے رجوع کو اسی تناظر میں اپنی ایوی ایشن انڈسٹری کے حقوق کے تحفظ کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے بھی حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایرانی پروازوں کو چلانے اور ایئرپورٹس کی سروسز حاصل کرنے پر پابندیاں برقرار رہیں تو ایران اس معاملے میں خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرے گا۔

محمد مخبر نے کہا تھا کہ ایران کی پالیسی واضح ہے کہ خطے میں پروازوں اور ایئرپورٹ کی سہولیات یا تو سب کیلئے کھلی ہونی چاہئیں یا پھر کسی کیلئے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ایرانی ایئرلائنز کو پروازوں اور ایئرپورٹ سروسز سے محروم کیا گیا تو خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے بھی اس کے اثرات سامنے آسکتے ہیں۔

ایرانی سول ایوی ایشن کے سربراہ ابوذر شیرازی کے مطابق ایران نے آئی سی اے او اور عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرکے امریکی پابندیوں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ ایرانی حکومت اپنی فضائی صنعت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سفارتی اور قانونی سطح پر اقدامات جاری رکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے