لانگ مارچ کی تاریخ بدلنے سے پارٹی کمزور ہوئی، علی امین گنڈاپور

پشاور (ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ لانگ مارچ سے متعلق پارٹی کی کوئی خاص تیاری نہیں تھی، جبکہ مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کمزور ہوئی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھے گا تو وہ مطالبات تسلیم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کو نقصان پہنچا اور اس سے پارٹی کمزور ہوئی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کی رٹ نہ ہونے کے باعث صوبے میں وزرا، اراکین اسمبلی اور کارکنوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا فیصلہ سازوں کا کام ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا حکم ملا تو وہ دوبارہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر وزارت اعلیٰ چھوڑی تھی اور آئندہ بھی پارٹی قیادت کے فیصلے پر عمل کریں گے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران رکاوٹوں اور مزاحمت کے باوجود وہ تین مرتبہ اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران انہیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

موجودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کے حوالے سے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ان کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کا تعلق ایک ہی جماعت سے ہے اور وہ پختون ہیں، اس لیے گھر آئے مہمان کی قدر کرتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق مارچ کی تاریخ میں تبدیلی اور اس کے حوالے سے پارٹی کی حکمت عملی پر سیاسی سطح پر بحث جاری ہے۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں علی امین گنڈاپور اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس میں پارٹی اور صوبے کی سیاسی صورتحال سمیت لانگ مارچ کے معاملے پر گفتگو کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض تفصیلات ذرائع سے منسوب ہیں اور ان کی آزادانہ باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *