آئینے کے عکس سے روح کی روشنی تک کا سفر

کتاب۔آئینہ روشنی،اور فنا کا سفر،کی خاصیت!
تبصرہ نگار: ظفر اقبال ظفر
کیا آپ نے کبھی آئینے میں دیکھ کر یہ محسوس کیا ہے کہ جو عکس سامنے ہے، وہ آپ کی اصل حقیقت نہیں بلکہ محض ایک عارضی خاکہ ہے؟ زینب جہانزیب کی تحریرپر مبنی یہ سبق ہمیں صوفیانہ سفر کے اُس راستے پر لے جاتا ہے جہاں انسان اپنے مادی وجود سے گزر کر حقیقی روشنی اور فنا کی منزل حاصل کرتا ہے۔ یہ سفر خود کو کھو کر خود کو پانے کا خوبصورت عمل ہے۔

خودی اور وجود کے صوفیانہ تصور کو سمجھنا اور یہ جاننا کہ مادی عکس کس طرح اصل حقیقت کو چھپاتا ہے۔سائے (نفسِ امارہ) کی حقیقت کو پہچاننا اور اس سے چھٹکارا پا کر بیداری حاصل کرنا۔درد، خاموشی اور صبر کو روحانی تربیت کے اہم ترین ذرائع کے طور پر سمجھنا۔فنا اور بقا کے حقیقی معنی سیکھنا، جہاں مٹ جانا اصل میں مکمل ہو جانا بن جاتا ہے۔

انسانی وجود ایک آئینے کی طرح ہے، لیکن مادی دنیا کی رنگینیاں اس آئینے پر دھند کی تہہ جما دیتی ہیں۔ صوفیانہ فکر کے مطابق، ہم اکثر اپنے ظاہری عکس کو ہی اپنی اصل سچائی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ اصل چہرے کا صرف ایک عارضی اور دھندلا عکس ہوتا ہے۔جب انسان اپنے باطن کی طرف سفر کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے اپنے ‘سائے ‘ یعنی نفسِ امارہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ یہ سایہ دراصل اندھیرے کا وہ حصہ ہے جہاں روشنی نہیں پہنچ پاتی۔ جب تک انسان اپنے اس سائے کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کرتا تب تک معرفت کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔ خواب میں جاگنے والی آنکھ دراصل باطنی بیداری کا استعارہ ہے، جہاں جسم تو سو جاتا ہے لیکن روح جاگ اٹھتی ہے۔ایک انٹرایکٹو مائنڈ میپ جو انسانی خودی، نفسِ امارہ (سایہ) اور باطنی بیداری (خواب میں جاگتی آنکھ) کے درمیان باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔

روشنی اور الٰہی حقیقت۔روشنی ہمیشہ اندھیرے سے ہی جنم لیتی ہے۔ تصوف کی رو سے، اندھیرا روشنی کا دشمن نہیں بلکہ وہ خاموش خلوت ہے جہاں روشنی اپنے ہونے کا شعور پاتی ہے۔ انسان جب دنیا کی ظاہری روشنیوں سے تھک کر اپنے باطن کے اندھیرے میں اترتا ہے، تو اسے سچی روشنی ملتی ہے۔عشقِ اول کی بازگشت کائنات کی تخلیق کا بنیادی راز ہے۔ صوفیا کہتے ہیں کہ خدا ایک پوشیدہ خزانہ تھا، جس نے خود کی پہچان واسطے کائنات کو تخلیق کیا۔ جب انسان اپنے اندر کی گہرائی میں اتر کر ‘لا مکان’ کے نور کو چھوتا ہے، تو اس پر یہ راز کھلتا ہے کہ وہ روشنی باہر کہیں نہیں، بلکہ اس کے اپنے دل کے نہاں خانے میں موجود تھی۔ آنکھوں کے پیچھے بھی ایک دنیا آباد ہے، جو ظاہری دنیا سے کہیں زیادہ حقیقی اور وسیع ہے۔ظاہر سے باطن تک کا سفر۔ایک سلائیڈ پریزنٹیشن جو مادی دنیا کی ظاہری بصارت سے باطن کی حقیقی بصیرت اور ‘نورِ لا مکان’ تک پہنچنے کے مراحل کو تصاویر اور اہم نکات کے ذریعے سمجھاتی ہے۔

درد، صبر اور سلوک۔انسانی زندگی میں دُکھ اور درد صرف مصیبت نہیں بلکہ رُوح کی پاکیزگی اور رُوحانی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ بہت زیادہ ہنستے ہوئے چہروں کے پیچھے اکثر گہرے طوفان چھپے ہوتے ہیں، اور صوفیانہ سلوک میں یہی درد عبادت بن جاتا ہے جب اسے خاموشی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔صبر کا مطلب وقت کو مجبوری میں برداشت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود کو وقت کے سپر د کر دینا ہے۔ جب انسان شکوہ کرنا چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا دل تسلیم و رضا کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ دل جب مزار بنتا ہے، تو وہاں سے ہر طرح کا غرور اور لالچ مٹ جاتا ہے اور انسان اپنی شکستوں میں بھی الٰہی حکمت تلاش کر لیتا ہے۔ خاموشی میں روح کا رقص دراصل وہ حالت ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور صرف خدا کی موجودگی کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔

درد اور صبر کی صوفیانہ اہمیت۔ایک صوتی گفتگو جس میں بحث کی گئی ہے کہ صوفیانہ روایت میں درد، دکھ اور صبر کو کس طرح انسانی روح کو نکھارنے اور الٰہی قربت حاصل کرنے کے اوزار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔وصل، ادراک اور فنا۔صوفیانہ سفر کی آخری اور اعلیٰ ترین منزل ‘فنا’ ہے۔ فنا کا مطلب جسمانی موت نہیں ہے، بلکہ اپنے اندر کی انا، غرور اور ‘میں ‘ کو ختم کر دینا ہے۔ جب انسان کا باطن مکمل طور پر مٹ جاتا ہے، تو وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کے لیے ‘بقا’ پا جاتا ہے۔اس منزل پر پہنچ کر انسان پکار اٹھتا ہے: ‘میں فنا نہیں ہوئی، میں مکمل ہوئی ہوں ‘۔ جب قطرہ سمندر میں مل جاتا ہے تو وہ قطرہ نہیں رہتا بلکہ خود سمندر بن جاتا ہے۔ کائنات انسان کے اندر سمٹ آتی ہے اور وقت کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔

صوفی کے لیے یہ لمس لافانی اور ابدی سکون کا باعث بنتا ہے جہاں وہ خود روشنی بن کر کائنات کے ذرے ذرے میں خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔:ہمارا مادی وجود اور ظاہری عکس حقیقی نہیں ہے، بلکہ اصل سچائی باطن کی گہرائی میں پوشیدہ ہے۔اپنے نفس اور سائے کا سامنا کرنا معرفت اور باطنی بیداری کا پہلا قدم ہے۔درد، صبر اور خاموشی روح کی تربیت کے لیے لازمی ہیں، جو انسان کو تسلیم و رضا کا سبق سکھاتے ہیں۔فنا کا اصل تصور اپنی انا کو مٹا کر الٰہی سچائی میں ضم ہو جانا ہے، جو انسان کو حقیقت میں کامل بنا دیتاہے۔

اس تمام رُوحانی معلومات کا تھوڑاسا حصہ جو آپ کی عدالت شعور میں پیش گیا یہ زینب جہانزیب صاحبہ کی کتاب۔آئینہ روشنی،اور فنا کا سفر،سے ہی اخذ کر کے کیا گیا ہے اگر آپ خدا کے رُوحانی جہانوں کی کھل کر پرواز کرنا چاہتے ہیں تو کتاب، آئینہ روشنی،اور فنا کا سفر،آپ کو اُڑنے کے لیے نہ صرف پر دے گئی بلکہ آسمانوں کے راستوں کے متعلق بھی راہنمائی کرئے گئی۔یہ وہ دور ہے جس میں انسان، انسان تک پہنچنے میں ناکام ہے ایسے میں انسان کو خدا تک پہنچانے کا راستہ و طریقہ، کتابی سواری میں مہیاء کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔

زینب جہانزیب صاحبہ کی یہ کتاب وہ کتا ب ہے جو ہر صاحب اولاد آدمی کے تکیے کے نیچے لازمی ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *