گھوٹکی کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری)
گھوٹکی میں ایک سال قبل مبینہ طور پر قتل ہونے والے نوجوان نیاز محمد چاچڑ کے قتل کیس کے نامزد ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف مقتول کے ورثاء نے کچو بنڈی تھانے کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت مقتول کے اہلخانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہاتھوں میں مقدس قرآن پاک اٹھا کر انصاف فراہم کرنے اور تحفظ دینے کی اپیل کی، جس سے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور علاقائی ماحول سوگوار ہو گیا۔
احتجاج میں نثار چاچڑ، جان محمد چاچڑ، مائی صغران، مائی صادت، بھائی خان اور خاندان کے دیگر افراد شریک تھے۔ مظاہرین اور ورثاء نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ فاروق چاچڑ، حفیظ چاچڑ، عثمان چاچڑ، شھمیر چاچڑ، عبدالشکور چاچڑ، فتن چاچڑ، صدیق چاچڑ اور محمد بیگ چاچڑ سمیت دیگر افراد نیاز محمد چاچڑ کے قتل کے مقدمے میں باقاعدہ نامزد ہیں، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ واقعہ کو پورا ایک سال بیت جانے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوئی مؤثر عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مقتول کے ورثاء کا مزید کہنا تھا کہ نامزد ملزمان قانون کی گرفت سے آزاد گھوم رہے ہیں اور کیس کی پیروکاری سے باز رکھنے کے لیے انہیں مسلسل مبینہ طور پر جان و مال کی سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مقتول کا پورا خاندان شدید خوف اور بے یقینی کا شکار ہے اور ان کی جان و مال مسلسل خطرے میں ہے۔ اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی مجرمانہ تاخیر کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام نامزد ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کر کے تفتیش کو میرٹ کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔
مظاہرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے پرزور اپیل کی کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیں، کیس کو میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچائیں اور متاثرہ خاندان کو قانونی تحفظ فراہم کریں۔ ورثاء نے واضح کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر پیش رفت نہ کی گئی تو وہ اعلیٰ حکام اور عدالتوں سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔