تدریس، تربیت اور نسل سازی: ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کا استادانہ کردار

پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی ادبی و علمی خدمات
تحریر: منورشاہ منور
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا تعارف محض نام سے نہیں ہوتا، بلکہ ان کی زندگی، کردار، علم، فکر اور تخلیقی سفر خود ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ وہ جہاں موجود ہوں، وہاں علم کی روشنی، ادب کی خوشبو اور فکر کی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، ادبی ذوق، تحقیقی کاوشوں اور استادانہ کردار سے پشتو زبان و ادب کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کا نام صرف ایک شاعر، محقق یا استاد کے طور پر نہیں لیا جاتا بلکہ وہ ایک ایسے ہمہ جہت ادبی وجود کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں کئی جہان اپنی پوری معنویت کے ساتھ آباد ہیں۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کا ذکر ہو اور پشتو زبان و ادب کی وہ روایت سامنے نہ آئے جس نے صدیوں کے سفر میں اپنے اندر تہذیب، تاریخ، مزاحمت، محبت، تصوف، انسان دوستی اور قومی شعور کے بے شمار رنگ سمیٹے ہیں، یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اسی وسیع ادبی روایت سے فیض حاصل کیا اور پھر اپنی فکر، تخلیق اور تحقیق کے ذریعے اس روایت میں اپنا حصہ شامل کیا۔ ان کی شخصیت میں ماضی کی علمی میراث کا احترام بھی ہے اور مستقبل کے امکانات کا ادراک بھی۔ یہی وصف انہیں محض روایت پسند اہلِ قلم سے الگ کرتا ہے۔

وہ بنیادی طور پر ایک کہنہ مشق شاعر، سنجیدہ محقق، باریک بین نقاد اور کامیاب استاد ہیں۔ تاہم ان کے یہ تمام تعارف الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیے جا سکتے۔ ان کی شاعری میں محقق کی گہری نظر دکھائی دیتی ہے، ان کی تحقیق میں شاعر کا جمالیاتی ذوق محسوس ہوتا ہے، ان کی تنقید میں استاد کی تربیتی بصیرت نظر آتی ہے اور ان کی تدریس میں ایک ادیب کا حساس دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یوں ان کی شخصیت علم و ادب کے مختلف دھاروں کا ایسا سنگم ہے جہاں فکر، فن، تحقیق اور تربیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔

بطور شاعر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی فکری سنجیدگی اور اظہار کی سادگی ہے۔ ان کے ہاں لفظ محض آرائشِ سخن کا ذریعہ نہیں بلکہ احساس اور فکر کی ترسیل کا وسیلہ ہے۔ وہ لفظ کو اس وقت تک مکمل نہیں سمجھتے جب تک اس کے اندر کوئی انسانی جذبہ، کوئی فکری سوال یا زندگی کا کوئی تجربہ سانس نہ لے رہا ہو۔

ان کی شاعری میں تصنع کے بجائے خلوص، بناوٹ کے بجائے سچائی اور محض جذباتیت کے بجائے شعوری احساس نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے شعری مزاج میں وطن سے محبت، اپنی مٹی سے وابستگی، انسان دوستی، امن کی خواہش، معاشرتی مسائل کا احساس، مزاحمت کا جذبہ اور خود شناسی جیسے موضوعات اپنی مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔

ان کے ہاں اپنی تہذیب اور ثقافت سے محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک زندہ شعور کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پشتون معاشرے کی اقدار، روایات، رسم و رواج، اجتماعی نفسیات اور تہذیبی مزاج ان کے فکری منظرنامے میں جگہ پاتے ہیں۔ لیکن وہ روایت کو جامد شے نہیں سمجھتے؛ ان کے ہاں روایت ایک ایسا چراغ ہے جس کی روشنی میں حال کو دیکھا اور مستقبل کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔

ان کی شاعری کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مقامی تجربے کو انسانی تجربے سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں اپنی مٹی کی خوشبو ضرور ہے، مگر اس خوشبو میں انسانیت کی وسعت بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر کو صرف ایک مخصوص جغرافیے یا طبقے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی علمی شخصیت کا ایک اہم حوالہ ان کی تحقیقی خدمات ہیں۔ تحقیق محض معلومات جمع کرنے کا نام نہیں؛ تحقیق دراصل سوال اٹھانے، شواہد تلاش کرنے، حقیقت تک پہنچنے اور علمی دیانت کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچنے کا نام ہے۔ اس اعتبار سے ان کی تحقیقی کاوشیں پشتو ادب کے علمی سرمائے میں اہم اضافہ تصور کی جاتی ہیں۔

پشتو ادب کی تاریخ، تنقید، زبان اور ادبی مباحث جیسے موضوعات پر کام کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کو ملحوظ رکھا کہ ادب کو صرف جذبات کی نظر سے نہیں بلکہ علمی اور تنقیدی شعور کے ساتھ بھی پڑھا جائے۔ ان کی تحقیق میں مواد کی تلاش کے ساتھ ساتھ اس کی تفہیم، تجزیہ اور معنوی جہات کو سامنے لانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

ایک سنجیدہ محقق کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سوال سے گھبراتا نہیں۔ ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی علمی شخصیت میں بھی یہی جستجو دکھائی دیتی ہے۔ وہ ادب کو ایک زندہ موضوع سمجھتے ہیں؛ ایسا موضوع جس پر ہر نسل اپنے نئے سوالات کے ساتھ غور کر سکتی ہے۔ یہی رویہ تحقیق کو محض ماضی کی بازیافت کے بجائے حال اور مستقبل سے جوڑ دیتا ہے۔

ان کی تحقیقی خدمات کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پشتو زبان و ادب کے وسیع ذخیرے کو منظم، محفوظ، متعارف اور تنقیدی سطح پر سمجھنے کے لیے مسلسل علمی کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اہلِ علم کی تحقیق آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی سرمایہ بن جاتی ہے۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی ادبی شخصیت میں تنقیدی بصیرت بھی نمایاں ہے۔ اچھی تنقید محض خامیاں تلاش کرنے کا نام نہیں بلکہ تخلیق کے اندر موجود حسن، فکر، اسلوب، فنی ساخت اور معنوی امکانات کو سمجھنے کا نام ہے۔ ان کا تنقیدی رویہ اسی وسیع تر مفہوم سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

وہ ادب کو اس کے تاریخی، تہذیبی اور سماجی پس منظر کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی تخلیق کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے الفاظ کافی نہیں؛ اس کے پس منظر، عہد، معاشرتی ماحول اور مصنف کے فکری رویے کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہی جامع نقطۂ نظر تنقید کو محض رائے سے اٹھا کر علمی مطالعے میں تبدیل کرتا ہے۔

ان کے تنقیدی مزاج میں ادب سے محبت اور علمی احتیاط ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہی توازن ایک نقاد کو محض تبصرہ نگار سے ممتاز کرتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی شخصیت کا شاید سب سے روشن اور دیرپا پہلو ان کا استاد ہونا ہے۔ استاد صرف وہ شخص نہیں جو کتاب پڑھاتا ہے؛ حقیقی استاد وہ ہے جو اپنے شاگرد کے اندر سوال کرنے، سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی نے تدریس کو محض ملازمت یا نصابی ذمہ داری نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر برتا۔ ان کے لیے کلاس روم صرف سبق پڑھانے کی جگہ نہیں بلکہ ذہنوں کو بیدار کرنے، سوالات کو جنم دینے اور نئی نسل کو علم و ادب سے جوڑنے کا مقام رہا ہے۔

ایک اچھا استاد اپنے شاگردوں کی کامیابی میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی اصل میراث صرف ان کی کتابیں، مضامین یا شعری تخلیقات نہیں بلکہ وہ ذہن بھی ہیں جنہیں انہوں نے علم کی طرف متوجہ کیا، وہ شاگرد بھی ہیں جنہیں انہوں نے ادب سے جوڑا، اور وہ فکری چراغ بھی ہیں جو ان کی تربیت سے آگے روشن ہوئے۔

ان کی شخصیت میں استاد کی شفقت، محقق کی سنجیدگی، شاعر کی حساسیت اور دانشور کی بصیرت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں ایک ایسے استاد میں تبدیل کرتا ہے جس کا اثر نصاب ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کا متوازن مزاج ہے۔ علم اگر انسان میں انکسار پیدا نہ کرے تو وہ محض معلومات کا ذخیرہ رہ جاتا ہے۔ حقیقی علم انسان کو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ بھی عطا کرتا ہے۔

ان کی شخصیت میں علم و حلم، سنجیدگی اور شائستگی، روایت اور جدت کا ایک خوبصورت امتزاج محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنی علمی شناخت کو دوسروں سے فاصلے کا سبب بنانے کے بجائے علمی مکالمے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے لیے ادب ایک ایسی دنیا ہے جہاں اختلاف ممکن ہے، سوال ممکن ہے، مکالمہ ممکن ہے اور نئے خیالات کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

ایک اہلِ علم کی اصل پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے علم کو کس طرح دوسروں تک منتقل کرتا ہے۔ ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی شخصیت میں یہی وصف ان کے ادبی اور استادانہ کردار کو مزید معتبر بناتا ہے۔

پشتو ادب کی عظیم روایت اپنے اندر ایک وسیع تہذیبی اور فکری سرمایہ رکھتی ہے۔ جدید دور کے تقاضے اس روایت کے سامنے نئے سوالات بھی پیدا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی ادبی شخصیت کا اہم وصف یہ ہے کہ وہ روایت اور جدیدیت کو ایک دوسرے کی ضد نہیں سمجھتے۔

ان کے ہاں روایت ماضی کی قید نہیں بلکہ شناخت کا سرچشمہ ہے، جبکہ جدیدیت اندھی تقلید نہیں بلکہ بدلتے ہوئے زمانے کے شعور کا نام ہے۔ وہ کلاسیکی ادبی ورثے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جدید فکری سوالات سے بھی رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ یہی رویہ ادب کو زندہ رکھتا ہے۔

ان کے ادبی سفر میں ماضی کی خوشبو بھی ہے اور مستقبل کی آہٹ بھی۔ ان کی فکر میں اپنی تہذیبی جڑوں سے وابستگی کے ساتھ ساتھ نئے عہد کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ یہی امتزاج ان کی شخصیت کو ایک وسیع فکری تناظر عطا کرتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی ادب کو محض لفظوں کا کھیل نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ادب انسانی شعور کو بیدار کرنے، معاشرے کو آئینہ دکھانے اور انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے ان کے ادبی مزاج میں مقصدیت اور ذمہ داری کا احساس نمایاں ہے۔

وہ ادب کے ذریعے انسان، معاشرے اور زندگی کے بنیادی سوالات سے مکالمہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ادب محض تفریح نہیں بلکہ شعور کی ایک صورت ہے۔ ایسا شعور جو انسان کو اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنے ماحول کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

ان کے ادبی رویے میں امن، انسان دوستی اور معاشرتی شعور جیسے موضوعات کی موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ قلم کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک لکھنے والا صرف الفاظ کا کاریگر نہیں بلکہ اپنے عہد کا گواہ بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی تمام علمی و ادبی سرگرمیوں کے مرکز میں پشتو زبان سے گہری محبت دکھائی دیتی ہے۔ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتی؛ زبان ایک قوم کی تاریخ، یادداشت، تہذیب، جذبات اور اجتماعی شناخت کی محافظ بھی ہوتی ہے۔

پشتو زبان کے لیے ان کی خدمات اسی وسیع احساس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو پشتو زبان کے فروغ، اس کے ادبی سرمائے کی تفہیم اور اس کے علمی مقام کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہ کام کسی ایک فرد یا ایک نسل کا کام نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والا فکری سفر ہے، اور ایسے سفر میں ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی جیسے اہلِ علم کی خدمات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

اگر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی شخصیت کو صرف شاعر، محقق، نقاد یا استاد کے کسی ایک عنوان میں محدود کر دیا جائے تو شاید ان کی شخصیت کا مکمل احاطہ نہ ہو سکے۔ وہ ان تمام حوالوں کا مجموعہ ہیں۔

وہ شاعر ہیں تو فکر کے شاعر؛
محقق ہیں تو جستجو کے محقق؛
نقاد ہیں تو بصیرت کے نقاد؛
استاد ہیں تو تربیت کے استاد؛
اور ادیب ہیں تو اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے عہد کے ادیب۔

ان کی شخصیت میں علم کتابوں سے نکل کر کردار میں ڈھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات میں محض تخلیق نہیں بلکہ ایک فکری رویہ موجود ہے۔ ان کی تحقیق میں محض مواد نہیں بلکہ علمی ذمہ داری ہے۔ ان کی تدریس میں محض نصاب نہیں بلکہ نسل سازی کا جذبہ ہے۔

مختصراً یہ کہنا بجا ہوگا کہ پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی پشتو زبان و ادب کے ان اہلِ قلم میں شامل ہیں جن کی خدمات کو محض چند تعریفی جملوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ ان کی شخصیت علم، ادب، تحقیق، تنقید اور تدریس کے کئی روشن حوالوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

وہ ایک ایسے عہد کے گواہ بھی ہیں اور اس عہد کے معمار بھی، جس میں پشتو ادب اپنی قدیم روایت کے ساتھ جدید دنیا کے فکری سوالات سے بھی ہم کلام ہے۔ ان کی علمی کاوشیں ادب کے طالب علم کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں، ان کی تخلیقات حساس قاری کے لیے فکری تجربہ ہیں، ان کی تنقید ادب کے طالب علم کو سوچنے کا سلیقہ دیتی ہے اور ان کی استادانہ زندگی نئی نسل کے لیے علم کی قدر و منزلت کا پیغام ہے۔

کسی بھی ادیب کی اصل عظمت صرف اس کے لکھے ہوئے الفاظ میں نہیں ہوتی بلکہ اس اثر میں ہوتی ہے جو اس کے الفاظ دوسروں کے دل و دماغ پر چھوڑتے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی ادبی شخصیت کی معنویت بھی اسی اثر میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے قلم سے لکھا، اپنی تحقیق سے ادب کو سمجھا، اپنی تنقید سے فکری سمتیں واضح کیں اور اپنی تدریس سے نسلوں تک علم کی روشنی پہنچانے کی کوشش کی۔

پشتو ادب کے وسیع آسمان پر ایسے اہلِ علم کی موجودگی ایک قیمتی علمی اثاثہ ہے۔ ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کا نام اسی حوالے سے احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا کہ انہوں نے ادب کو محض پڑھا نہیں، اسے جیا؛ تحقیق کو محض پیشہ نہیں بنایا، اسے علمی ذمہ داری سمجھا؛ اور تدریس کو محض ملازمت نہیں سمجھا بلکہ اسے نسلوں کی تعمیر کا وسیلہ بنایا۔

ان کی شخصیت میں علم کی روشنی، ادب کی خوشبو، تحقیق کی گہرائی، شاعری کی لطافت اور استاد کی شفقت یکجا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی شخص کو محض ایک ادیب نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ایک ادبی حوالہ، علمی روایت اور فکری دبستان بنا دیتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی یقیناً پشتو زبان و ادب کے ان روشن چراغوں میں سے ہیں جن کی روشنی صرف آج کے ادبی منظرنامے تک محدود نہیں رہتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی راستے روشن کرتی ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات پر جتنا لکھا جائے، کم ہے؛ کیونکہ کچھ شخصیات پر مضمون ختم ہو جاتا ہے، مگر ان کا تذکرہ ختم نہیں ہوتا۔

یہی ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کی شخصیت کا اصل امتیاز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے