ضلع کرم: 12 دیہات کے بے گھر افراد کا معاوضے اور داد رسی کے لیے جرگہ

ضلع کرم (کیو این این ورلڈ/بیورورپورٹ) وسطی کرم کے علاقے مناتو میں قبائلی عمائدین کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا، جس میں آپریشن کے باعث عارضی طور پر بے گھر ہونے والے (TDPs) متاثرین کے لیے فوری معاوضے کی ادائیگی اور دیگر درپیش مسائل کے حل کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے زیمشت خوئداد خیل کے رہنما حاجی ریحان، خواجہ ناہید اور دیگر عمائدین نے بتایا کہ مناتو اور گردونواح کے 12 دیہات میں مقیم زیمشت قبائل کے 1,661 بے گھر افراد تمام تر سرکاری تصدیقی طریقہ کار اور بائیو میٹرک مکمل ہونے کے باوجود دو لاکھ دس ہزار روپے کے بنیادی معاوضے اور دیگر امداد سے محروم ہیں، جس سے علاقے میں انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

عمائدین نے وزائر اعلیٰ، چیف سیکرٹری، کور کمانڈر پشاور، جی او سی نائن ڈویژن، ایم این اے انجینئر حمید حسین، کمانڈر 73 بریگیڈ اور ڈپٹی کمشنر فہد وزیر سے فوری داد رسی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے کے باشندوں کو سیکیورٹی صورتحال کے باعث اپنے گھر اور آبائی زمینیں چھوڑنی پڑی تھیں، مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی انہیں کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی گئی۔

مقامی باشندوں اور ایک بے گھر رہائشی حکمت خان کا کہنا تھا کہ آمدنی کے تمام ذرائع ختم ہونے سے اب دو وقت کی روٹی اور بچوں کے لیے علاج و معالجہ بھی ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ معاوضے میں طویل تاخیر نے عوام کو شدید معاشی و نفسیاتی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ ضلع خیبر کے متاثرین کی طرز پر ضلع کرم کے ان تمام رجسٹرڈ متاثرین کو بھی بلا تاخیر دو لاکھ دس ہزار روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے