آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بنائے جائیں: چیئرمین ایم کیو ایم

کراچی (کیو این این ورلڈ/نمائندہ خصوصی ڈاکٹربشیراحمد بلوچ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم ہجرت کر کے قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے لیکن ہمیں بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں صرف اور صرف پاکستان ہے، جبکہ صوبے محض انتظامی یونٹس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا خود سب سے بڑی غداری ہے، اور آج تمام سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم کے موقف کی تائید کر رہی ہیں۔

انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کا سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے۔ اے پی ایم ایس او کے منشور میں صوبے کے قیام کا ذکر موجود تھا جو اب پورے ملک کی آواز بن چکا ہے۔ ایم کیو ایم کا بنیادی مطالبہ ہے کہ پورے ملک میں آبادی کے تناسب سے نئے صوبے تشکیل دیے جائیں۔ اگر ہمیں ہمارا صوبہ دے دیا جائے تو آرٹیکل 140 اے ہم خود نافذ کر لیں گے، تاہم ہمیں سندھ اسمبلی میں سندھو دیش کے خلاف قرارداد لانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے کسی طویل دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہلے شفاف مردم شماری کروائے اور پھر ایمانداری سے ووٹر لسٹیں مرتب کی جائیں۔ اس وقت کراچی کی آبادی دو کروڑ سے متجاوز ہو چکی ہے، لہٰذا جو ریاست مردم شماری نہ کرا سکے اسے کم از کم مردم شناسی ضرور کرانی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے