معافی کمزور انسان کا نہیں بلکہ مضبوط اور حوصلہ مند انسان کا وصف ہے

خیبر (کیو این این ورلڈ/ نورحلیم آفریدی) آفریدی اقوام کی قدیم اور شاندار روایات آج بھی زندہ ہیں۔ خیبر میں قوم شلوبر سے تعلق رکھنے والے حاجی کمرگل کے خاندان اور مرحوم حاجی ستنا گل کے خاندان کے درمیان جاری خونی دشمنی کو جرگے اور ننواتے کی روایتی رسم کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق چار سال قبل قوم شلوبر سے تعلق رکھنے والے دونوں خاندانوں کے درمیان زمینی تنازعے کے دوران مرحوم حاجی ستنا گل کے خاندان سے تعلق رکھنے والا رحمت نامی نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا، جس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی چلی آ رہی تھی۔ قومی مشران نے طویل عرصے تک مسلسل کوششیں اور جرگے کیے، جس کے نتیجے میں بالآخر دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کروا دی گئی۔

جرگے کی کوششوں کے بعد حاجی کمرگل کے خاندان نے مرحوم حاجی ستنا گل کے خاندان سے معافی مانگتے ہوئے ننواتے کی، جسے دوسرے فریق نے پشتون اور آفریدی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے قبول کر لیا۔ صلح کے بعد دونوں خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے اور باہمی رنجشیں ختم کرکے آئندہ بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے کا عزم کیا۔

صلح کے لیے قائم جرگے میں جماعت اسلامی کے رہنما الحاج فقیر محمد، محمد یونس، حاجی صاحب اور فضل منان شامل تھے، جنہوں نے دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کے لیے طویل عرصے تک بھرپور اور مسلسل کوششیں کیں۔

اس موقع پر آفریدی قومی مشران اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے، جن میں جماعت اسلامی کے رہنما خان محمد خان، رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کے بھائی نثار خان، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خان عالم آفریدی، شلوبر قومی کونسل کے چیئرمین لعل نبی، حاجی کیپتان، مسلم لیگ (ن) کے اصغر خان، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عبد الواحد، صدیق چراغ، لعل وزیر اور دیگر شامل تھے۔

اس موقع پر مقررین نے دونوں خاندانوں کو صلح پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ معاف کرنا اسلام میں بلند ترین اقدار میں سے ایک ہے۔ معافی کمزور انسان کا نہیں بلکہ مضبوط اور حوصلہ مند انسان کا وصف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے نہ صرف دو خاندانوں بلکہ پورے معاشرے میں امن، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے