ضلعی گورنر اور ضلعی اسمبلی
تحریر: سید نذیر شاہ
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ سننے میں جتنا آسان اور سیاسی طور پر پرکشش دکھائی دیتا ہے، آئینی اور عملی اعتبار سے اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ موجودہ صوبوں کی حدود تبدیل کرنے یا نیا صوبہ بنانے کے لیے محض ریفرنڈم کافی نہیں۔ آئین کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے، جبکہ نئے صوبے کے قیام کے نتیجے میں آئین کے متعدد حصوں میں ترامیم ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ یوں نیا صوبہ بنانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک طویل، پیچیدہ اور گہرے سیاسی اتفاقِ رائے کا تقاضا کرنے والا آئینی عمل ہے۔ لیکن شاید ہمیں ایک بنیادی سوال پہلے پوچھنا چاہیے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ واقعی صوبوں کی تعداد ہے یا حکمرانی کا وہ مرکزی اور بیوروکریٹک ڈھانچہ جس میں اختیارات، وسائل اور فیصلے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں؟
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کے ساتھ ایک مضبوط، بااختیار اور آئینی طور پر محفوظ مقامی حکومت کا نظام زیادہ قابلِ عمل راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا نظام جس میں اختیار واقعی عوام کے قریب ہو، فیصلے مقامی سطح پر ہوں اور ہر ادارہ اپنے دائرۂ اختیار میں وسائل کے ساتھ جواب دہ بھی ہو۔ اس نظام کا خاکہ دو سطحی بنایا جا سکتا ہے، جہاں نچلی سطح پر یونین کونسل کام کرے گی اور ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ گورنر اور ڈسٹرکٹ اسمبلی کا جامع ڈھانچہ قائم ہوگا۔
ہر یونین کونسل میں عوام براہِ راست اپنے چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر نمائندوں کا انتخاب کریں۔ چیئرمین اپنی یونین کونسل کا سیاسی اور انتظامی سربراہ ہو اور صفائی، پانی، گلیوں، نکاسیٔ آب، مقامی ترقی، پیدائش و اموات کے اندراج اور دیگر روزمرہ کے بنیادی مسائل حل کرنے کا ذمہ دار ہو۔ اس نظام کا بنیادی اصول بالکل سادہ ہونا چاہیے کہ جو مسئلہ یونین کونسل کی سطح پر حل ہو سکتا ہے، اسے ضلع یا صوبے تک لے جانے کی ضرورت نہ پڑے۔
اس نظام کی اصل جدت ضلع کی سطح پر سامنے آئے گی۔ ضلع کی اسمبلی کے لیے الگ انتخابات کرانے کے بجائے تمام یونین کونسلوں کے منتخب چیئرمین خود بخود ڈسٹرکٹ اسمبلی کے ارکان بن جائیں گے۔ اگر کسی ضلع میں ستر یونین کونسلیں ہوں تو ان کے ستر منتخب چیئرمین ہی ڈسٹرکٹ اسمبلی تشکیل دیں، جو اپنے میں سے اسپیکر منتخب کریں اور ضلع کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، مقامی قوانین اور انتظامی پالیسیوں پر بحث اور منظوری دیں۔
دوسری طرف پورے ضلع کے عوام براہِ راست ایک ڈسٹرکٹ گورنر منتخب کریں۔ گورنر ضلع کا چیف ایگزیکٹو ہوگا، لیکن مطلق العنان نہیں ہوگا۔ اسے ضلعی انتظامیہ چلانے، امن و امان برقرار رکھنے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کرنے، ترقیاتی اداروں اور مقامی سروس ڈیلیوری کی نگرانی کا اختیار حاصل ہوگا، مگر وہ اپنے مالی، انتظامی اور دیگر فیصلوں کے لیے اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔ وہ اپنا بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام ڈسٹرکٹ اسمبلی میں پیش کرے گا اور اسمبلی کی منظوری کے بغیر عوامی خزانے سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کر سکے گا۔ یوں انتظامی اختیار ایک ہاتھ میں ضرور ہوگا، لیکن مالی اختیار منتخب ایوان کی نگرانی میں رہے گا۔
اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ ہوگا کہ یونین کونسل کا چیئرمین صرف اسمبلی کا رکن بن کر ضلع میں نہیں بیٹھے گا بلکہ اپنے علاقے میں بھی موجود رہے گا۔ اسمبلی کا اجلاس نہ ہو تو وہ اپنی یونین کونسل میں عوام کے درمیان کام کرے اور اسمبلی کا اجلاس ہو تو اسی حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے پورے ضلع کے فیصلوں میں اپنے حلقے کی عوام کے مفاد کا تحفظ کرے۔ اس طرح ایک ہی انتخابی ڈھانچہ مقامی اور ضلعی سطح کو آپس میں جوڑ دے گا، اور ایک ہی دن انتخابات ہونے کی وجہ سے اضافی سیاسی عہدوں اور غیر ضروری اخراجات کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے گا۔
گورنر اور ڈسٹرکٹ اسمبلی کو یہ اختیار بھی حاصل ہو کہ وہ مرکز اور صوبائی محکموں کے ضلعی سربراہان کو ایوان میں طلب کرکے انتظامی کارکردگی، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری فنڈز کے استعمال کا حساب مانگے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بیوروکریسی اور پولیس صرف اپنے بالائی افسران کو جواب دہ نہیں رہیں گی بلکہ اس ضلع کے عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے بھی جواب دینا پڑے گا جہاں وہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یوں گورنر ضلع کا انتظام اور امن و امان سنبھالے گا، اسمبلی نگرانی اور احتساب کرے گی، جبکہ یونین کونسلیں عوام کے روزمرہ مسائل حل کریں گی۔
لیکن یہاں ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ اختیار کے ساتھ وسائل بھی منتقل کرنا ہوں گے۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ضلع کو بااختیار بنا دیا گیا ہے، اگر پیسہ صوبائی دارالحکومت میں رہے گا تو اختیار بھی کاغذی رہے گا۔ اس لیے قومی و صوبائی مالیاتی نظام میں مقامی حکومتوں کے لیے ایک واضح اور آئینی طور پر محفوظ حصہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ صوبوں کو قابلِ تقسیم پول میں سے کم از کم 50 فیصد مقامی اور ضلعی حکومتوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے، جسے ایک شفاف فارمولے کے تحت براہِ راست اضلاع اور یونین کونسلوں تک پہنچایا جائے۔
یہ تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ پسماندگی، غربت، رقبہ، انفراسٹرکچر کی حالت اور عوامی خدمات کی ضروریات کو بھی مناسب وزن دیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ محروم علاقوں کو زیادہ وسائل مل سکیں۔ اس کے ساتھ ہر ضلع کو مقامی محصولات وصول کرنے کے مستقل اختیارات بھی حاصل ہونے چاہئیں، کیونکہ جس حکومت کے پاس خرچ کرنے کی ذمہ داری ہے، اسے آمدن پیدا کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔
اختیارات کی تقسیم بھی واضح ہونی چاہیے۔ صوبائی حکومت کا کردار قانون سازی، صوبائی پالیسی، بڑے انفراسٹرکچر اور بین الاضلاعی منصوبوں تک محدود ہو، ضلع انتظامی اور ترقیاتی فیصلے کرے، اور یونین کونسل شہریوں کے روزمرہ مسائل حل کرے۔ لیکن پاکستان کے تجربے کو دیکھتے ہوئے صرف قانون بنا دینا کافی نہیں ہے، بلکہ مقامی حکومتوں کو ناقابلِ تسخیر آئینی تحفظ دینا ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل 140-اے میں مقامی حکومتوں کے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو واضح اور مؤثر بنایا جائے، جبکہ مالیاتی تقسیم کے آئینی فریم ورک میں مقامی حکومتوں کے حصے کی ضمانت دی جائے تاکہ صوبائی حکومتیں انہیں اپنی سیاسی صوابدید کے تابع نہ رکھ سکیں۔
مقامی حکومتوں کی مدت مقرر ہو، انتخابات بروقت کرانا الیکشن کمیشن کی واضح آئینی ذمہ داری ہو، اور مقررہ مالی وسائل براہِ راست مقامی اداروں کو منتقل کیے جائیں۔ مقامی حکومتوں کو بے اثر کرنے، انہیں اپنی مرضی سے توڑنے اور ان کے اختیارات سلب کرنے کے دیرینہ عمل کو ہمیشہ کے لیے روکنے کا واحد راستہ صرف اور صرف آئینی ترمیم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان کو مستقبل میں نئے صوبوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بڑے صوبوں کا حجم، جغرافیائی فاصلے، انتظامی مشکلات اور علاقائی محرومیاں اپنی جگہ حقیقی مسائل ہیں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس پر بحث ہونی چاہیے۔ لیکن ہمیں یہ سوال بھی ساتھ رکھنا ہوگا کہ اگر نیا صوبہ بھی وہی اختیارات اپنے دارالحکومت میں جمع کر لے جو آج بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں موجود ہیں تو عام آدمی کے لیے کیا بدلے گا۔ نقشے پر شاید ایک نئی لکیر کھینچ دی جائے، مگر اگر اختیار پھر بھی عوام سے دور رہا تو حکمرانی کا تجربہ نہیں بدلے گا۔ اصل تبدیلی اسی وقت آئے گی جب اختیار اوپر سے نیچے اور مرکز سے عوام تک منتقل ہوگا۔