یومِ دفاع سے معرکۂ حق تک، پاکستانی قوم کی لازوال مزاحمت

یوم دفاع سے معرکۂ حق تک
از قلم: عصمت اسامہ

~لہو سے اپنے سجایا ہے ہم نے گلشنِ وطن
یہ وہ چمن ہے جسے کوئی خزاں گوارا نہیں

شہیدوں نے ہمیں جینا سکھایا سر اٹھا کر
خدا کے نام سے بڑھ کر کوئی نعرہ ہمارا نہیں

جو سرحدوں پہ کھڑے ہیں، وہ قوم کا مان ہیں
انہی کے دم سے وطن آج بھی بے سہارا نہیں!

6 ستمبر پاکستان کی قومی و عسکری تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جب عددی اعتبار سے کئی گنا بڑے اور طاقت ور دشمن نے رات کی تاریکی میں وطنِ عزیز پر بزدلانہ حملہ کیا۔ ستمبر 1965ء میں بھارتی افواج نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کیا تو پاک فوجِ کے جری جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ چاہے وہ چونڈہ کے مقام پر ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ ہو یا فضائیہ کے شاہینوں کا فضاؤں میں راج، پاکستانی سرحدوں کو فولادی دیوار بنا دیا گیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید نے شجاعت کے نئے باب رقم کئے۔ آسمان کی بلندیوں میں ایم ایم عالم نے دشمن کو پسپا کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ جنگ صرف سرحدوں پر متعین فوج نے نہیں، بلکہ پوری قوم نے مل کر لڑی۔ بھارتی جنرل کا لاہور کے جم خانہ میں فتح کا جام نوش کرنے کا خواب اس لیے شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا کیونکہ اس کی راہ میں صرف مسلح افواج ہی نہیں، بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کا فولادی عزم کھڑا تھا۔

شواہد اور تاریخی واقعات:
1. محاذِ جنگ پر عام شہریوں کی پیش قدمی:

جنگ کے ابتدائی ایام میں جب بی آر بی نہر اور واہگہ کے محاذ پر گھمسان کی جنگ جاری تھی، لاہور، سیالکوٹ اور قصور کے دیہاتیوں نے گولیوں اور بمباری کی پروا کیے بغیر اپنی گاڑیوں، گدھا گاڑیوں اور سائیکلوں پر فوجیوں کے لیے گرم کھانا، دودھ اور پانی پہنچایا۔ فوج کے لاجسٹکس (رسد) کے نظام کو سنبھالنے میں مقامی آبادی نے خود رضاکارانہ کردار ادا کیا، جس سے سپاہیوں کو یہ احساس ملا کہ پوری قوم ان کی پشت پر موجود ہے۔

2. قومی دفاعی فنڈ اور معاشی ایثار:
جنگ کے اخراجات اور وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جب حکومت نے اپیل کی، تو قوم نے اپنے جیب اور گھروں کے دروازے کھول دیے۔ خواتین نے اپنے زیورات اور جمع پونجی قومی دفاعی فنڈ (National Defence Fund) میں جمع کروا دی۔ بچوں نے اپنے گلک توڑ کر رقم فوج کے نام کر دی۔

3. قلم کاروں، ادیبوں اور میڈیا کا محاذ:
1965ء میں ریڈیو پاکستان اور قومی پریس نے جو کردار ادا کیا، وہ اطلاعاتی محاذ پر عوامی یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔ لکھاریوں نے جذبۂ حُب الوطنی اور شوقِ شہادت سے لبریز نظمیں اور ترانے لکھے۔ ملکہ ترنم نور جہاں، مسعود رانا اور دیگر فنکاروں نے جنگ کے دوران خطرے کے باوجود اسٹوڈیوز میں جا کر ایسے نغمے گائے ("اے وطن کے سجیلے جوانوں”، "اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں”، "ساتھیو، مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن”) جنہوں نے محاذِ جنگ پر موجود سپاہیوں کے لہو کو گرما دیا۔
ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے قلم کے محاذ سے قوم کے مورال کو فلک شگاف بلندیوں پر رکھا۔
4. داخلی نظم و ضبط:

جنگ کے دنوں کے دوران لاہور اور دیگر سرحد کے قریب واقع شہروں میں بلیک آؤٹ (Blackout) کی سخت پابندی کی جاتی تھی۔ گھروں، بازاروں، مارکیٹوں کی روشنیاں بند رکھی جاتی تھیں تاکہ دشمن کے طیارے وطن کو نشانہ نہ بنا سکیں۔ پوری قوم فوج کی استقامت اور توجہ کو محاذ پر مرکوز رکھنے کے لیے اندرونی محاذ پر خود پاسبان بن چکی تھی۔

5. خون کے عطیات کی فراوانی:
زخمی سپاہیوں کے لیے جب اسپتالوں سے خون کی اپیل کی گئی، تو شہریوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ، کاروباری افراد اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں خون کے عطیات دیے۔

حالیہ "معرکۂ حق 2025ء” جدید دور کی سٹریٹجک کامیابی:
2025ء میں تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا تو "آپریشن بنیان مرصوص” کے ذریعے افواجِ پاکستان نے سمارٹ تکنیک، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف دفاع کیا بلکہ دشمن کو فوری اور فیصلہ کن جواب دیا۔ پاکستانی شاہینوں نے بھادت کے اندر جا کے دفاعی نظام ایس 400 کے پرخچے اڑا دئیے۔ جدید سمارٹ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل، سائبر اور اطلاعاتی محاذ پر بھی لڑی گئی۔ جب دشمن نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی، نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر اور ففتھ جنریشن پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی بقا کو چیلنج کیا، تو پاکستانی قوم نے یہ ثابت کیا کہ قوم اور افواج کے درمیان فولادی اتحاد آج بھی پہلے کی طرح قائم و دائم ہے۔ فوجی جوانوں کے ساتھ شہری اور دیہاتی بھی بندوقیں لے کر ڈرون گرا رہے تھے۔

2025ء کی جنگ کا سب سے بڑا چیلنج دشمن کا شدید نفسیاتی اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا تھا جس کا مقصد عوام اور فوج کے درمیان بدگمانی پیدا کرنا اور خوف و نفرت پھیلانا تھا۔ ایسے کٹھن وقت میں ملک کے نوجوانوں، آئی ٹی ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین نے ایک منظم اور بیدار فائر وال کا کردار ادا کیا۔ شہریوں نے دشمن کے جعلی اکاؤنٹس، فیک نیوز اور ففتھ جنریشن پروپیگنڈے کو فوری طور پر بے نقاب (Fact-check) کیا۔ سوشل میڈیا واریئرز کی کاوشوں سے مثبت سچائی کی ترویج نے دشمن کے ڈیجیٹل حملوں کو مکمل ناکام بنا دیا۔ عوام نے انفارمیشن وارفیئر کے محاذ پر فوج کی مضبوط ترین دفاعی لائن بن کر فتح حاصل کی۔

پاکستانی ہیکرز نے بھارت کے سائبر سسٹم کو ہیک کرلیا۔ بازاروں اور کاروباری مراکز میں افراتفری يا ذخیرہ اندوزی پھیلنے کی بجائے تاجر برادری اور عام شہریوں نے مکمل یکسوئی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ جس سے پاک افواج کو سرحدوں پر یکسوئی کے ساتھ آپریشن جاری رکھنے کا موقع ملا۔

سیاسی، نظریاتی اور علاقائی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری قوم اور تمام مکاتبِ فکر ایک ہی نکتہ نظر پر متحد ہو گئے۔ تمام طبقہ ہائے فکر، پریس اور عوامی پلیٹ فارم سے 2025ء میں اس یکسوئی نے دشمن کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان پر حملہ پوری 24 کروڑ قوم پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشگاف انداز میں اعلان کیا کہ "ہمیں وہ دنیا ہی قبول نہیں جس میں پاکستان نہ ہو۔ اگر ہم گئے تو آدھی دنیا کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے!” اس اعلان نے عالمی طاقتوں کو بھی دہلا کے رکھ دیا۔

1965ء کی روایتی جنگ سے لے کر 2025ء کے اس جدید اور سمارٹ "معرکۂ حق” تک، تاریخ نے یہ حقیقت ثابت کی ہے کہ جنگ کے طریقے اور ٹیکنالوجی چاہے کتنی ہی بدل جائیں، پاکستانی قوم کا اپنی افواج کے ساتھ محبت اور یکجہتی کا تعلق ہمیشہ ناقابلِ تسخیر اور لازوال رہے گا۔

6 ستمبر کا دن ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ پاک سرزمین کی حفاظت کے لیے جو رشتہ 1965ء میں قائم ہوا تھا، وہ معرکۂ حق 2025ء میں مزید مضبوط ہو چکا ہے۔ آج کا پاکستان نہایت باوقار اور عالمی سطح پر طاقت ور پوزیشن کا حامل ہے۔

~فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے