پشاور (کیو این این ورلڈ/ نامپ نگار)فرنٹیئر کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA) خیبرپختونخوا کے صدر ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) کی سربراہی میں ایک وفد نے نئے تعینات ہونے والے کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ پشاور ضیاء اللہ شمس سے کسٹم ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی۔ وفد میں ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری میاں وحید باچا، ممبر ایگزیکٹو ارشد خان اور دیگر نمائندگان شامل تھے۔
ملاقات کے دوران ضیاء الحق سرحدی نے ضیاء اللہ شمس کو کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ضیاء اللہ شمس کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ، ایڈیشنل کلکٹر، ڈپٹی کلکٹر اور دیگر اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور خیبرپختونخوا کے کاروباری مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
وفد نے ملاقات کے دوران طورخم بارڈر سمیت دیگر سرحدی گزرگاہوں کی طویل بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے بارڈرز کی بندش نے خیبرپختونخوا کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ طورخم بارڈر صوبے کی تجارتی سرگرمیوں کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بندش سے کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، بارڈر ایجنٹس، درآمد و برآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور دیگر وابستہ افراد کو شدید مالی نقصان اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وفد نے اضاخیل ڈرائی پورٹ پر کسٹمز کلیئرنس کے عمل میں سست روی، انتظامی رکاوٹوں اور کاروباری طبقے کو درپیش دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی۔ اس موقع پر کسٹمز حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ کاروباری برادری کے مسائل کے فوری حل کے لیے اوپن ڈور پالیسی اختیار کی جائے تاکہ تاجروں اور کلیئرنگ ایجنٹس کو بروقت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ملاقات میں فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ سے پیدا ہونے والی مشکلات بھی زیر بحث آئیں۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ ان ٹیکسوں کے باعث کئی کاروبار متاثر ہوئے ہیں، لہٰذا وفاقی حکومت کو چاہیے کہ چیمبرز آف کامرس اور کاروباری حلقوں سے مشاورت کے بعد ایسی پالیسیاں تشکیل دے جو تجارت اور صنعت کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔
اس موقع پر پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے اضاخیل ڈرائی پورٹ سے ایکسپورٹ کارگو ٹرین سروس شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ کراچی سے آنے والے کمرشل درآمدی کارگو اور خیبرپختونخوا کی صنعتی بستیوں کے لیے خام مال کی کسٹم کلیئرنس اضاخیل ڈرائی پورٹ پر کی جائے تاکہ صوبے کے کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، مزدوروں اور دیگر متعلقہ شعبوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان ریلوے کو بھی فریٹ کی مد میں خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوگی۔
بعد ازاں وفد نے نئی تعینات ہونے والی ایڈیشنل کلکٹر اپریزمنٹ ڈرائی پورٹ سائقہ عباس اور ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ ہیڈکوارٹر نجیب ارجمند سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں کاروباری برادری کو درپیش مسائل، کسٹمز کلیئرنس کے عمل میں حائل رکاوٹوں اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
ملاقات کے اختتام پر کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ ضیاء اللہ شمس نے وفد کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت سے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے اور پیش کی گئی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ اس موقع پر ضیاء الحق سرحدی نے تعاون کی یقین دہانی پر کلکٹر کسٹمز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹیئر کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن بھی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

