چترال کا فکری سرمایہ، پاکستان کا علمی اثاثہ

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی: لفظوں کا درویش، تہذیب کا پاسبان
تحریر: منور شاہ منور

پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں کی خاموش وادیوں میں بعض ایسی شخصیات جنم لیتی ہیں جو اپنے عہد کی حدود سے نکل کر آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، ادب، صحافت، تحقیق اور چترال کی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

14 اگست 1952ء کو ضلع چترال کی دلکش وادی لاسپور کے گاؤں بالیم میں مولانا محمد اشرف کے گھر پیدا ہونے والے عنایت اللہ فیضی نے ابتدائی عمر ہی سے علم و مطالعہ کو اپنا شعار بنایا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول چترال سے 1970ء میں میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے جامعہ پشاور کا رخ کیا، جہاں سے ایم اے اردو، ایم اے اسلامیات، ایم فل اور بعدازاں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی تعلیمی زندگی مسلسل جستجو، تحقیق اور فکری ارتقا کی ایک روشن داستان ہے۔

عملی زندگی کا آغاز وزارتِ اطلاعات، حکومتِ پاکستان سے ہوا۔ 1976ء سے 1982ء تک انہوں نے انفارمیشن آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ کھوار زبان کے اخبار جمہورِ اسلام میں سب ایڈیٹر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ بعد ازاں محکمۂ تعلیم خیبر پختونخوا سے وابستہ ہوئے اور تدریس کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتے ہوئے نوجوان نسل کو علم و آگہی سے آراستہ کیا۔

چترال کی زبان، تاریخ اور ثقافت کے تحفظ و فروغ کی بات ہو تو ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ انجمن ترقی کھوار چترال کے جنرل سیکریٹری اور بعد ازاں صدر کی حیثیت سے انہوں نے کھوار زبان و ادب کی ترقی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی انتھک جدوجہد نے کھوار زبان کو نئی فکری توانائی عطا کی اور چترال کی تہذیبی شناخت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

تصنیف و تحقیق کے میدان میں بھی ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ واخان، چین بہ جبین اور کھوار اردو بول چال جیسی اہم کتابیں ان کی علمی بصیرت کی آئینہ دار ہیں، جبکہ چترال: ایک تعارف میں شریک مصنف کی حیثیت سے انہوں نے اس خطے کی تاریخ، جغرافیہ اور تہذیب کو مؤثر انداز میں قلم بند کیا۔ ان کے بتیس تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں جبکہ اٹھارہ مقالات ملکی و بین الاقوامی علمی کانفرنسوں میں پیش کیے جا چکے ہیں، جو ان کی تحقیقی سنجیدگی اور فکری وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

صحافت کے میدان میں بھی ان کا قلم نصف صدی سے شعور و آگہی کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔ 1994ء سے روزنامہ آج اور روزنامہ مشرق میں "دادِ بیداد” کے عنوان سے ان کا مستقل کالم شائع ہو رہا ہے، جس میں معاشرتی شعور، تہذیبی اقدار، قومی مسائل اور انسانی رویوں پر گہری بصیرت کے ساتھ اظہارِ خیال کیا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں دلیل کی پختگی، زبان کی شگفتگی اور فکر کی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔

علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں انہوں نے عوامی جمہوریہ چین، جرمنی، برطانیہ، ایران اور نیپال کے دورے کیے۔ ان مواقع پر انہوں نے پاکستان، بالخصوص چترال کی تہذیب، ثقافت اور علمی روایت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی تخلیقی اور تحقیقی کاوشوں کا سفر آج بھی جاری ہے۔ ان کی نو غیر مطبوعہ کتابیں اشاعت کی منتظر ہیں جن میں کالموں کے مجموعے، شخصیات پر مبنی تذکرے، سفرنامے اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ یہ علمی سرمایہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ان کا قلم وقت گزرنے کے ساتھ مزید توانا اور بارآور ہوتا گیا ہے۔

قوم و ملک کے لیے ان کی گراں قدر علمی، ادبی، صحافتی اور ثقافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں "ستارۂ امتیاز” سے نوازا۔ یہ اعزاز صرف ایک فرد کی خدمات کا اعتراف نہیں بلکہ علم، تحقیق، دیانت دار صحافت اور تہذیبی خدمت کی اس درخشاں روایت کی پذیرائی بھی ہے جسے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے اپنی پوری زندگی وقار اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی محض ایک ادیب، محقق یا صحافی نہیں، بلکہ چترال کی تہذیبی روح، کھوار زبان کے سفیر اور علم و قلم کی اس روشن روایت کے امین ہیں جس کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ خلوص، علم اور مسلسل جدوجہد انسان کو زمانے کی یادگار شخصیات میں شامل کر دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے