شہید بینظیر آباد (کیو این این ورلڈ/نور محمد جتوئی)سکرنڈ شہر کے قریب واقع گاؤں خمیسو خان چانڈیو میں ایک نوجوان کی مبینہ طور پر زہر دے کر ہلاکت کے معاملے پر ورثاء اور اہل علاقہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج میں ایوب خان چانڈیو، محمد حسن چانڈیو، فیض محمد چانڈیو، فہمیدان، زاہدان، شاہدان، بلقیس سمیت مرد، خواتین، بچوں اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور انصاف کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے نوجوان رمضان چانڈیو کو مبینہ طور پر عبدالباری نے اپنے گھر دعوت پر مدعو کیا، جہاں ان کے بقول عبدالباری نے اپنی اہلیہ اور بیٹے اسد چانڈیو کے ساتھ مل کر رمضان چانڈیو کو کھانا کھلایا۔ ورثاء کے مطابق کھانے کے بعد انہیں جوس پیش کیا گیا جس میں مبینہ طور پر زہر ملایا گیا تھا۔
ورثاء نے الزام عائد کیا کہ زہریلا جوس پینے کے بعد رمضان چانڈیو کی حالت غیر ہوگئی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے نوجوان کے خون کا انصاف چاہتے ہیں اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جا سکے۔
ورثاء نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سندھ، پولیس حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔