قصور (کیو این این ورلڈ/ بیوروچیف طارق نوید سندھو) ضلع قصور میں مبینہ طور پر غیر قانونی اور غیر معیاری رکشوں، منی رکشوں، بسوں، ٹریکٹروں اور دیگر گاڑیوں کی باڈیاں تیار کرنے والی ورکشاپوں کی بھرمار نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے غیر قانونی باڈی میکنگ کے خلاف واضح ہدایات اور قواعد و ضوابط کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں یہ ورکشاپیں کھلے عام کام کر رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق قصور نیو بس ٹرمینل، دیپالپور روڈ، بیاس کالج کے اطراف، کمال چشتی چوک، گنڈا سنگھ روڈ، پیرووالا روڈ اور دیگر علاقوں میں متعدد ورکشاپیں مبینہ طور پر بغیر مطلوبہ منظوری اور تکنیکی معیار کے گاڑیوں کی باڈیاں تیار کر رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان ورکشاپوں میں تیار ہونے والی گاڑیاں حفاظتی تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں اور ان میں ناقص یا غیر معیاری میٹیریل استعمال کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو ایسی گاڑیاں نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی جان و مال کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر معیاری باڈیوں والی گاڑیاں کسی بھی حادثے کی صورت میں زیادہ جانی و مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ انڈسٹریز، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے)، اسسٹنٹ کمشنر آفس اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے میں مؤثر نگرانی اور کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق اگر مختلف علاقوں میں یہ ورکشاپیں برسوں سے کام کر رہی ہیں تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن، حفاظتی معیار اور حکومتی قواعد پر عملدرآمد کا باقاعدہ جائزہ لیں۔
شہریوں نے سیکرٹری آر ٹی اے قصور عثمان کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ غیر قانونی باڈی میکنگ کے خلاف کارروائیاں صرف کاغذی حد تک محدود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ورکشاپوں کو وقتی طور پر سیل یا جرمانہ تو کیا جاتا ہے، تاہم چند روز بعد وہ دوبارہ سرگرم ہو جاتی ہیں، جس سے کارروائیوں کی شفافیت اور مؤثریت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اس حوالے سے سیکرٹری آر ٹی اے کا مؤقف ہے کہ مختلف اوقات میں متعدد ورکشاپوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، انہیں سیل کیا گیا اور جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع اور شہریوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات مستقل بنیادوں پر غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے اور بیشتر ورکشاپیں دوبارہ کام شروع کر دیتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ سے بھی اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔
شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں قائم باڈی میکنگ ورکشاپوں کا جامع سروے کرایا جائے، قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی ورکشاپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ غیر قانونی اور غیر معیاری گاڑیوں کی تیاری کا سلسلہ روکا جا سکے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل الزامات، دعوے اور مؤقف متعلقہ شہریوں، ذرائع اور فریقین سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ اگر متعلقہ ادارے، محکمے یا ذمہ داران اس حوالے سے مزید وضاحت، تردید یا اپنا مؤقف دینا چاہیں تو کیو این این ورلڈ صحافتی اصولوں کے مطابق ان کا مؤقف پوری ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ شائع کرے گا۔