نوروالہ برانچ تیسری بار ٹوٹ گئی، آبادی اور فصلیں شدید خطرے میں

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار حبیب خان) پل 82 ہزار پنجند کینال سے نکلنے والی نوروالہ برانچ ایک بار پھر ٹوٹ گئی۔ چند ہی روز میں تیسری مرتبہ اسی مقام پر شگاف پڑنے سے علاقے کے کسانوں اور رہائشیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جبکہ بروقت اور مؤثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں بڑے جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقامی کسانوں اور اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ چند روز قبل بھی نوروالہ برانچ ٹوٹنے سے مونگی، کپاس اور دیگر فصلیں پانی میں ڈوب گئیں، جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ ان کے مطابق محکمہ انہار نے مستقل بنیادوں پر مرمت اور حفاظتی انتظامات کرنے کے بجائے صرف عارضی اقدامات کیے، جس کے باعث نہر دوبارہ اسی مقام سے شگاف کا شکار ہو گئی۔

علاقہ مکینوں کے مطابق اس سے قبل بھی پانی چھوڑنے کے دوران اسی جگہ شگاف پڑا تھا، جسے متاثرہ کسانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بند کیا، تاہم رات کے وقت دوبارہ پشتہ ٹوٹ گیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تقریباً چالیس نوجوانوں نے کئی گھنٹے مسلسل محنت کرکے پانی کو آبادی کی جانب بڑھنے سے روکا، جس سے ممکنہ بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔

رہائشیوں نے بتایا کہ برانچ کے عقب میں نصب پانی بند کرنے والا درہ عرصہ دراز سے خراب پڑا ہے اور اسے رسیوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جو کسی بھی وقت ناکارہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود محکمہ انہار نے اس اہم حفاظتی نظام کی مرمت نہیں کرائی، جس سے ہنگامی صورتحال میں خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نوروالہ برانچ سے بلہ جھلن، پنوں جھلن، نوروالہ، جندو ڈایا، شہباز پور شرقی، محسن شاہ علی ڈایا اور لیاقت پور کے وسیع زرعی رقبے سیراب ہوتے ہیں، جبکہ احمد پور شرقیہ کے صرف چار موگہ جات کو بھی اسی برانچ سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ نہر کی دیکھ بھال اور نگرانی مناسب انداز میں نہیں کی جا رہی۔

اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ بیلدار باقاعدگی سے پشتوں کا معائنہ نہیں کرتے، جبکہ کمزور مقامات کی نشاندہی کے باوجود متعلقہ حکام، خصوصاً ایس ڈی او الہ آباد، کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، جس کے باعث ہر بار نہر ٹوٹنے کی صورت میں کسانوں کو اپنی مدد آپ کے تحت صورتحال پر قابو پانا پڑتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق نوروالہ برانچ میں تقریباً 10 سے 15 کیوسک پانی چھوڑا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گزشتہ رات شگاف بروقت بند نہ کیا جاتا تو پانی بستی سادات بلہ جھلن میں داخل ہو جاتا، جہاں تقریباً 300 گھرانے، دو سرکاری بوائز و گرلز اسکول، ظفرآباد روڈ، وسیع زرعی رقبہ اور دیگر املاک شدید متاثر ہو سکتی تھیں۔

اہلِ علاقہ، کسانوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری انہار، چیف انجینئر، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نوروالہ برانچ کی مستقل بنیادوں پر مرمت، کمزور پشتوں کی مضبوطی، خراب درہ کی فوری تبدیلی اور غفلت کے مرتکب ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔

نوٹ: اس خبر میں محکمہ انہار اور متعلقہ حکام کے حوالے سے شامل الزامات مقامی رہائشیوں اور متاثرہ کسانوں کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ متعلقہ حکام اگر اس معاملے پر اپنا مؤقف دینا چاہیں تو کیو این این ورلڈ اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ شائع کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے