واشنگٹن / تہران (کیو این این ورلڈ) آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ نے ایران میں میزائل اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات سمیت ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے امریکی حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سینٹکام کے مطابق 25 جون کو ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک کمرشل جہاز پر ڈرون حملہ کیا، جس کے جواب میں امریکی افواج نے فضائی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور ایران کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی معاہدے (MOU) پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے امریکی افواج خطے میں مکمل طور پر متحرک اور چوکس ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے کے دوران جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرا، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری اور فضائی دفاعی یونٹوں نے جزیرہ سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کو ناکام بنا دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر چار مرتبہ حملہ کیا، جن میں سے تین حملے ناکام بنا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ناقابل قبول ہے اور امریکی ردعمل کے بارے میں "آپ کو خود پتہ چل جائے گا”۔ بعد ازاں امریکی سینٹکام نے ایران پر فضائی حملوں کی تصدیق کر دی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حملوں کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ "تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت (MOU) پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق کوئی اختلاف ہے تو وہ براہ راست رابطہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی اس جارحیت کو ہرگز جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایران کا ردعمل اس کے اپنے طے کردہ وقت اور مقام پر "تیز، سخت اور فیصلہ کن” ہوگا، جبکہ امریکا کی کسی بھی نئی کارروائی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی حملوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی معاہدوں کا احترام کرتے ہیں۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم اہداف، نقصانات یا حملے کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں اب امریکا اور ایران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔