امریکہ کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)امریکی ویب سائٹ Axios نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عروج، اقتدار سے محرومی اور پھر دوبارہ سیاسی واپسی نے امریکی سیاست کا پورا ڈھانچہ بدل کر رکھ دیا تھا، مگر اب یہی سیاسی نظام اندرونی طور پر تیزی سے بکھرنے لگا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں شدید نظریاتی تقسیم، عوامی بے چینی اور نئے سیاسی رجحانات کی زد میں ہیں، جس کے باعث 2026 کے وسط مدتی اور 2028 کے صدارتی انتخابات غیر معمولی حد تک غیر یقینی ہو گئے ہیں۔

Axios کے کالم نگار جم وینڈے ہائی (Jim VandeHei) اور مائیک ایلن (Mike Allen) نے اپنے کالم "Behind the Curtain” میں لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کی MAGA (Make America Great Again) تحریک اب دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ حامی ہیں جو ہر حال میں ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ حلقے ہیں جو خود کو حقیقی "America First” نظریے کا نمائندہ قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی بعض حالیہ پالیسیوں سے اسی نظریے سے ہٹ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بائیں بازو کی سیاست بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سوشلسٹ نظریات کو پہلے سے کہیں زیادہ پذیرائی مل رہی ہے، جبکہ روایتی ڈیموکریٹ قیادت اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال کے گیلپ سروے کے مطابق ڈیموکریٹ ووٹرز میں سوشلزم کو سرمایہ داری پر 66 فیصد کے مقابلے میں 42 فیصد کی برتری حاصل ہوئی، جو اب تک کا سب سے بڑا فرق ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر 30 سال سے کم عمر نوجوان ووٹرز میں زیادہ نمایاں ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جس عوام پسند (Populist) سیاست کو فروغ دیا تھا، وہ اب خود امریکی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ بڑھتی مہنگائی، طویل جنگوں، اشرافیہ کے احتساب نہ ہونے اور عوامی بے اعتمادی نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے اندر "America First” کے حقیقی مفہوم پر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، جس سے 2024 میں ٹرمپ کے گرد بننے والا وسیع اتحاد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں معروف قدامت پسند شخصیت ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) اور سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین (Marjorie Taylor Greene) نے بھی حالیہ دنوں میں ری پبلکن پارٹی کی بعض پالیسیوں، خصوصاً ایران سے متعلق مؤقف، پر سخت تنقید کی ہے اور اسے ٹرمپ کی اصل تحریک سے انحراف قرار دیا ہے۔ اسی طرح مقبول قدامت پسند پوڈکاسٹرز تھیو وان (Theo Von)، ٹم ڈیلن (Tim Dillon) اور کینڈیس اوونز (Candace Owens) بھی انتظامیہ پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی میں ترقی پسند اور سوشلسٹ دھڑا تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی (Zohran Mamdani) کے حمایت یافتہ تین ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار حالیہ پرائمری انتخابات کے بعد کانگریس تک پہنچنے کی پوزیشن میں ہیں، جس سے پارٹی کی روایتی قیادت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

Axios کی رپورٹ میں اسرائیل سے متعلق امریکی عوام کے بدلتے رویے کو بھی ایک بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔ Pew Research کے اعداد و شمار کے مطابق اب تقریباً 60 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جن میں 80 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز اور 50 سال سے کم عمر 57 فیصد ری پبلکن بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی جنگ کے بعد نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد اسرائیل کی پالیسیوں کو امریکی خارجہ پالیسی، جنگی حکمت عملی اور پرانی سیاسی قیادت کی علامت سمجھنے لگی ہے، جبکہ ری پبلکن پارٹی کے اندر بھی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ نوجوان "America First” حامی بیرون ملک مداخلت کو امریکی مفادات کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کو امریکی سیاست میں ابھرنے والا اگلا بڑا تنازع قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق روزگار کے خاتمے، بجلی کی بڑھتی طلب اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بے پناہ اثر و رسوخ کے خدشات نے دونوں جماعتوں کے اندر نئی صف بندیاں پیدا کر دی ہیں۔

ہارورڈ یوتھ پول کے مطابق 18 سے 29 سال کی عمر کے 59 فیصد امریکی نوجوان سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ان کے مستقبل کے روزگار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان میں 66 فیصد نوجوان ڈیموکریٹس اور 59 فیصد نوجوان ری پبلکن شامل ہیں۔

Axios کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف سرویز میں ان کی غیر مقبولیت تقریباً 60 فیصد کے قریب بتائی جا رہی ہے، تاہم مختلف اداروں کے سرویز میں یہ شرح مختلف ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام عوامل نے امریکی سیاست کو غیر معمولی حد تک غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں اکثریت کا فیصلہ انتہائی سخت مقابلے سے متوقع ہے، جبکہ سینیٹ میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے دار مقابلے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے بھی ابھی کوئی واضح منظرنامہ سامنے نہیں آیا۔ نیویارک ٹائمز کے ابتدائی جائزوں کے مطابق ممکنہ ڈیموکریٹ امیدواروں میں کملا ہیرس (Kamala Harris)، گیون نیوزم (Gavin Newsom)، پیٹ بٹجیج (Pete Buttigieg) اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (Alexandria Ocasio-Cortez) ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ری پبلکن صف میں نائب صدر جے ڈی وینس (J.D. Vance) اور وزیر خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) کو بھی ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایک ایسے سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ٹرمپ ازم، سوشلسٹ سیاست، اسرائیل سے متعلق بدلتے عوامی رجحانات، مصنوعی ذہانت اور معاشی خدشات مل کر امریکی سیاست کی نئی سمت متعین کر رہے ہیں۔ یہی عوامل 2026 کے وسط مدتی اور 2028 کے صدارتی انتخابات کو حالیہ امریکی تاریخ کے سب سے غیر متوقع انتخابات بنا سکتے ہیں۔

ادارتی نوٹ: یہ خبر امریکی ویب سائٹ Axios میں شائع ہونے والے تجزیے پر مبنی ہے۔ اس میں شامل سیاسی تجزیے، رجحانات اور بعض پیش گوئیاں متعلقہ مصنفین کی آراء ہیں، جنہیں مستقبل کے حتمی حقائق یا نتائج تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے