نیویارک/واشنگٹن/اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وینزویلا میں یکے بعد دیگرے آنے والے 7.1 اور 7.5 شدت کے طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، جن میں ایک 22 منزلہ عمارت بھی شامل ہے، جبکہ امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز دارالحکومت کراکس سے تقریباً 284 کلومیٹر مشرق میں تھا۔ شدید جھٹکوں کے بعد خوفزدہ شہری گھروں اور عمارتوں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے جبکہ حکام نے فوری طور پر سونامی وارننگ جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ زلزلے کے باعث متعدد علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، سکول بند کر دیے گئے اور ٹرین سروس بھی معطل کر دی گئی۔
زلزلے کے نتیجے میں وینزویلا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے مائیکیتیا کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث اسے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امدادی اداروں، فوج اور ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی محسوس کیے گئے جبکہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے بعض علاقوں میں 5.6 شدت کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔ حکام نے شمالی کیلیفورنیا میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
دریں اثنا شمالی جاپان میں بھی 6.9 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے جھٹکے دارالحکومت ٹوکیو تک محسوس کیے گئے۔ جاپانی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز ایواتی کا ساحلی علاقہ تھا اور اس کی گہرائی 50 کلومیٹر تھی۔ جاپانی وزیر دفاع نے فوج کو متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لینے اور صورتحال پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں کے بعد عالمی سطح پر امداد اور یکجہتی کے اعلانات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ وینزویلا کی مدد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ برائے غیر ملکی امداد جیرمی لیون نے اعلان کیا کہ امریکہ امدادی و طبی ٹیمیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان اور ریسکیو ماہرین وینزویلا روانہ کرے گا۔
لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک نے بھی متاثرین کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے 300 ریسکیو اہلکاروں اور 50 ٹن امدادی سامان کی تیاری کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایکواڈور، برازیل اور میکسیکو نے بھی وینزویلا کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وینزویلا میں زلزلوں سے ہونے والی تباہی اور جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زلزلوں کے باعث کئی علاقوں میں ابھی بھی صورتحال تشویشناک ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔