پریشانیوں کے گرداب میں ہچکولے کھاتے وقت دُعا کا ہاتھ پکڑ کر تعمیری سوچ کے کنارے پر پہنچ جانا،

دو ہاتھوں کا پیالہ جیسے دُعا کہتے ہیں!
تحریر: ظفر اقبال ظفر

میں دھیان جانب خدا کرکے سچے دل سے یہ دُعا مانگنے لگا کہ اے خدا تو مجھے مایوسی و نا اُمیدی کی تاریک بھول بھلیوں سے نکال، روشنی، عقل، سمجھ عطا کر تاکہ میں اس جال کو توڑ کر باہر نکل سکوں۔ اے مالک! تو میری دُعا قبول فرما۔ میں تیرا ناچیز اور گنہگار بندہ اُمید میں لپٹی التجا کرتا ہوں کہ تو مجھے دھتکارے گا نہیں۔

پھر خاموشی میں خدا کے حسین و غیر فانی دلاسے دیتے اقوال یاد کرکے قرار کی کیفیت میں اترنے لگا۔ شکر ہے تیرا خدایا، تو نے انسانی فطرت پر کرم کرتے ہوئے صدیوں سے تنہا، پریشان اور شکست خوردہ انسانوں کو اپنی دُعا کی ڈھارس دیے رکھی، اپنے ساتھ کی نئی اُمیدیں پیدا کرکے حوصلے بخشے۔

جب جب سچی دُعا سچے دل سے جانب خدا جاتی ہے، معجزہ دکھاتی ہے اور اعصابی کشمکش، تشویش، پریشانی، خوف، پچھتاوا اور نااُمیدی کو میرا وجود چھوڑنا پڑتا ہے اور ان کی جگہ جرات، اُمید اور کامیاب یقین لے لیتے ہیں۔

میں ہر روز صبح خدا سے دیانت، ذہانت، فراست، حفاظت اور ہدایت کی دُعا مانگ کر دن شروع کرتا ہوں۔ جب مانگنے میں تاثیر کم پڑتی ہے تو آنسوؤں سے دل کا گرد و غبار دھو لیتا ہوں۔

پریشانیوں کے گرداب میں ہچکولے کھاتے وقت دُعا کا ہاتھ پکڑ کر تعمیری سوچ کے کنارے پر پہنچ جانا، عمل کی تصویر دیکھ کر درست جینے کا موقع ملنا، انسان کے ساتھ قدرت کا تعاون ہی تو ہوتا ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ ایک دُعا پر ساری زندگی کا انحصار کرکے سب سے بڑی طاقت و قوت والی ذات کے سپرد کر دینا فوری ذہنی و قلبی سکون میں مبتلا کر دیتا ہے۔

آپ کے دونوں ہاتھ پیالے کی صورت میں جب خدا کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو دُعا اپنا معجزہ دکھاتی ہے۔ خدا پہ یقین، اطمینان و تسکین۔ بل کھاتی ہوئی سطح کی طوفانی موجیں سمندر کے عمیق اور اتھاہ حصوں کو غیر پریشان اور بے خلل چھوڑ جاتی ہیں اور جس شخص کی گرفت وسیع تر اور ابدی حقیقتوں پر ہوتی ہے، اسے اپنی تقدیر کی لمحاتی جھلکیاں غیر اہم اور بے وقعت چیزیں نظر آتی ہیں۔

چنانچہ سچا مسلمان ثابت قدم اور مستقل مزاج ہوتا ہے۔ اس کے اندر سلامتیِ طبع اور سکونِ قلب کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ خوش حال لوگوں سے زیادہ پریشان حال لوگوں نے خدا کو لازوال تحریکی قوت دُعا کے ذریعے آزمایا ہے اور ساتھ پایا ہے۔ وہ خدا جو ظالموں کے پنجوں میں اپنے کمزور بندوں کی حفاظت کیا کرتا ہے۔

دُعا ہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی ساری پریشانیوں کا بوجھ کائنات کی سب سے بڑی مشکل کشا طاقت کے حوالے کر معصوم بچے کی نیند سو سکتے ہیں۔

مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں کہ خدا نے پوری کائنات بہترین تخلیق میں رونما کرکے خود کو پوشیدہ کر لیا۔ اب جو اس حکمت کی کھوج پا لیتے ہیں وہ خود کو چھپاتے ہیں اور خدا کو ظاہر کرتے ہیں۔ خود کو چھپانا بھی ایک گہرے راز سے وابستہ ہے۔ انسان کے لیے یہ عمل نفس کی تکلیفوں سے نجات دلاتا ہے۔ خود پسندی جیسے مرض کی دوا عاجزی ہے۔

اگر ہم خود کو لوگوں سے بلند و بہتر ثابت کریں تو نکتہ چینی ضرور ہوگی۔ اپنی ذات کو نکتہ چینی سے بچانے کے لیے مجروح جذبات و احساسات کو تسکین دینے اور ہموار کرنے کی جتنی کوشش کی جائے گی، دشمنوں کی تعداد میں اتنا ہی اضافہ ہونا یقینی ہے۔

یہ اصول بڑا کارآمد ثابت ہوا ہے کہ خود کو خود کے اندر بلند کیا جائے۔ اس کے لیے عاجزی کا چھاتہ پہن لیں اور نکتہ چینی کی بارش میں بھیگنے کی بجائے اسے خود تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔

میں اپنی حماقتوں کا ریکارڈ خود بناتا ہوں، خود پر خود ہی تنقید کرتا ہوں، مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، اس لیے دوسروں کو بے لوث، کارآمد، تعمیری تنقید کی دعوت دیتا ہوں، اس شرط پر کہ اصلاح کرنے اور تباہ کرنے والوں میں پہچان کا معیار پرکھ لیا جائے۔

دُعا ہمیں اکیلے نہ ہونے اور اپنے ذہن و قلب سے بوجھ کو اتارنے کا احساس دیتی ہے۔

ہر انسان کی اپنی دو دُعائیں ضرور ہونی چاہئیں، ایک جو ہر ملنے والے بندے کو دی جائے اور ایک وہ جو رب کے حضور پیش کی جائے۔

مجھے ایک اندھے کی دُعا نے میری عقل کو حیرت میں ڈال دیا جب اُس نے ہاتھ اُٹھائے اور کہا کہ "اے رب! میں اپنے پوتوں کو سونے کے پیالے میں دودھ پیتا دیکھ کر مروں۔”

ایک جملے میں نسل بھی مانگی، دولت بھی مانگی، آنکھیں بھی مانگ لیں۔ مانگنے والے کی دُعا سن کر رب کو بھی دینے کی لذت آئی ہوگی۔ لینے والے سے پہلے دینے والا خوش ہو گیا۔

آپ کو اپنی دُعا بنانے میں راہنمائی کے لیے الفاظ و انداز کا منظر پیش کرتا ہوں، قبول فرمائیں:

اے رب! مجھے اپنی رحمت کا وہ ہاتھ بنا جو تیری قدرت کی جیبوں سے نکال نکال کر تنگ دستوں تک پہنچائے۔ جہاں کہیں نفرت کی بنجر زمین ہے، تو مجھے وہاں پیار محبت کے بیج بونے دے۔ جہاں رقابت ہے وہاں عفو، جہاں شک ہے وہاں ایمان، جہاں مایوسی ہے وہاں اُمید، جہاں تاریکی ہے وہاں روشنی، جہاں اندھیرا ہے وہاں نور، جہاں غم ہے وہاں خوشی، جہاں زخم ہے وہاں مرہم بننے کی توفیق عطا فرما۔

اپنے آپ کو ضرورت مندوں کے لیے وقف کرنے پر مبنی دُعائیہ الفاظ کہے تو مجھے اپنا مسئلہ حل ہو جانے والا اطمینان و سکون محسوس ہونے لگا، یعنی جس کا میں عرصہ دراز سے طلب گار تھا۔ ایک اندرونی کیفیت میں کھو گیا، میری رُوح پر ایک نیا سرور چھا گیا۔

ایک ایسی دُعا بنائی جس کو ایک لفافے میں بند کرکے جانب خدا روانہ کر دیا اور اس لفافے پر لکھ دیا کہ:

"ہوگا وہی جو تو چاہے گا۔ تیری مرضی میں میرا کوئی دخل نہیں۔ میری دُعا پر راضی ہو جا، یا اپنی رضا کے مطابق میری دُعا بنا دے۔ اے میرے ربِ رحیم! تیری رضا میری تسلیم۔”

دُعا وہ عبادت ہے جو ہر عبادت کا تکمیلی مرحلہ ہے۔ پاکیزہ الفاظوں کو عاجزی کے دھاگے میں پرو کر تسبیح بنائی، پھر اسے رُوح کے ہاتھوں میں تھمایا اور دل کی زبان سے ورد جاری کیا تو سماعتِ رب کی خوشبو نے پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا اور قبولیتِ دُعا کے لیے اُٹھے ہاتھوں کے پیالے میں اتر آئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے