پشاور (کیو این این ورلڈ /نامہ نگار) پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ڈرائی پورٹ و ریلوے سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین و ایگزیکٹو کمیٹی ممبر ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے پاک افغان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو اربوں روپے اور اربوں ڈالر کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستانی مصنوعات کے لیے قریب ترین اور اہم ترین منڈی ہے، جہاں برآمدات کے آرڈرز کی تصدیق کے ساتھ ہی پیشگی ادائیگی موصول ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی افغانستان کو سالانہ برآمدات تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر ہیں، جبکہ گزشتہ آٹھ ماہ کی بندش کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی برآمدات کا حجم سالانہ تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہے، جبکہ بندش کے باعث گزشتہ آٹھ ماہ میں تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسی طرح پاکستان وسطی ایشیائی ممالک سے کپاس، دالیں اور دیگر اشیاء نسبتاً کم لاگت پر افغانستان کے راستے درآمد کرتا ہے، تاہم ٹرانزٹ بندش سے درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
ضیاء الحق سرحدی کے مطابق افغانستان اور وسطی ایشیا سے آنے والے ٹرانزٹ کارگو پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو سالانہ اربوں روپے آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو بندش کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ کراچی بندرگاہیں افغان ٹرانزٹ تجارت کا مرکزی ذریعہ رہی ہیں، جہاں سالانہ 40 سے 45 ہزار کنٹینرز گزرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہر کنٹینر پر ٹرانسپورٹ، انشورنس، ہینڈلنگ اور دیگر اخراجات کی مد میں اوسطاً 4 ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جس سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 16 کروڑ امریکی ڈالر آمدنی حاصل ہوتی ہے، تاہم گزشتہ آٹھ ماہ میں اس مد میں تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
ان کے مطابق اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 تک تقریباً 10 ہزار ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے، جن پر یومیہ ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز عائد ہوئے۔ ہر کنٹینر پر اوسطاً 120 امریکی ڈالر یومیہ جرمانہ لگنے سے مجموعی طور پر افغان درآمد کنندگان کو روزانہ لاکھوں ڈالر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے، جبکہ گزشتہ چھ ماہ میں یہ نقصان 21 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی پاکستان کو سالانہ برآمدات تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہیں، جنہیں آٹھ ماہ کی بندش کے دوران تقریباً 53 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر نقصان پہنچا۔ اسی طرح افغانستان کی بھارت کو واہگہ بارڈر کے ذریعے سالانہ 30 کروڑ امریکی ڈالر کی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جن میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔
ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ ٹرانزٹ تجارت کی بندش کے باعث افغانستان کو کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں بھی بڑی آمدنی سے محرومی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ کارگو کو کراچی کے علاوہ دیگر راستوں پر منتقل کرنا پیچیدہ، مہنگا اور وقت طلب عمل ثابت ہوا ہے، جس سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری مزید متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے تاجروں، صنعتکاروں، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے متعلقہ حکام فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالیں اور دوطرفہ تجارت و ٹرانزٹ سرگرمیوں کو فوری بحال کریں، کیونکہ علاقائی تجارت کا فروغ معاشی استحکام، روزگار اور خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔