واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کی مزید تزویراتی اور اہم تفصیلات بین الاقوامی میڈیا پر منظر عام پر آ گئی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائٹرز” کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق، طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران حتمی معاہدے تک اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کا پابند ہو گا، جس کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی اور اپنی جوہری تنصیبات میں مزید توسیع کو فوری طور پر روک دے گا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس بڑے جوہری سمجھوتے کے بدلے میں امریکہ ایران پر عائد تیل کی تمام اقتصادی پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس کے ساتھ ہی، اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی تجارتی اور مال بردار بحری جہازوں کے لیے فوری طور پر بحال کر دیا جائے گا، جبکہ امریکہ مختلف عالمی بینکوں میں منجمد کیے گئے ایران کے 25 ارب ڈالر کے خطیر اثاثے بھی فوری طور پر بحال کرنے کا پابند ہو گا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، اس ابتدائی فریم ورک معاہدے کے بعد آئندہ 60 دنوں کے اندر دونوں ممالک کے مابین حتمی معاہدے کے تمام تزویراتی نکات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ معاہدے کی رو سے، جب تک حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، واشنگٹن کی جانب سے ایران پر کسی قسم کی کوئی نئی اقتصادی یا سیاسی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
معاہدے کی تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر مستقبل میں ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کا ایک جامع منصوبہ تیار کرے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی معاشی اور سیاسی حلقے اس نئی پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان اور عالمی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔