اوچ شریف: میاں زاہد اویسی پر قاتلانہ حملے کے نامزد ملزمان ظہیر اقبال اور اقبال چنڑ کی گرفتاری کا مطالبہ

اوچ شریف (کیو این این ورلڈ) سینئر ورکنگ جرنلسٹ میاں زاہد اویسی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے شدید ردِعمل میں جناح پریس کلب اوچ شریف کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جس میں واقعے کے خلاف متفقہ طور پر مذمتی قرارداد جمع کرائی گئی اور حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس کے شرکاء نے حکومت اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ صحافی پر حملہ کرنے والے شرپسند ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔

اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناح پریس کلب کے جنرل سیکرٹری شہزاد خلیل نے کہا کہ میاں زاہد اویسی ایک فعال ورکنگ جرنلسٹ ہیں اور ان پر قاتلانہ حملہ دراصل آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ ہے۔ انہوں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب بالخصوص بہاولپور ریجن میں صحافیوں کے لیے خطرات شدید تر ہو رہے ہیں اور اس معاملے میں سابقہ و موجودہ حکومت کے ادوار میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا، بہاولپور کے تمام صحافتی حلقے اس بزدلانہ حملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پریس کلب کے چیئرمین شمیم اختر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ صحافیوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، جبکہ موجودہ دور میں بہاولپور کے صحافیوں پر تشدد، اغوا اور قتل کے کئی لرزہ خیز واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور صحافیوں کے حقوق و تحفظ کا بل جلد پارلیمنٹ سے پاس کرایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدِباب ہو سکے۔

واضح رہے کہ قاتلانہ حملے کے بعد جب شدید زخمی میاں زاہد اویسی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو انہوں نے ایک ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کروایا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں میں ظہیر اقبال چنڑ، محمد اقبال چنڑ اور ان کا بھتیجا سمیت دیگر مسلح افراد ملوث ہیں، انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ ان حالات میں بھی امید نہیں ہاریں گے اور نہ ہی ایسے بزدلانہ حملے ان کے ارادے کمزور کر سکتے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر زخمی ورکنگ جرنلسٹ میاں زاہد اویسی کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے