اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو آج 28 سال مکمل ہو گئے، یومِ تکبیر ملک بھر میں قومی جوش و جذبے، ملی یکجہتی اور وطن سے محبت کے عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
28 مئی 1998ء کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے راس کوہ پہاڑوں میں کامیاب جوہری تجربات کر کے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، جبکہ پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے والا پہلا اسلامی ملک بھی بنا۔ ان ایٹمی تجربات کی قیادت ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کی، جبکہ پاکستانی سائنسدانوں اور ماہرین کی انتھک محنت نے ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
یومِ تکبیر اس عزم کی یاد دلاتا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا یہ تاریخی جملہ آج بھی قوم کو یاد ہے کہ ’’ہم گھاس کھا لیں گے مگر ملک کو ایٹمی طاقت بنائیں گے‘‘۔
بھارت کے ایٹمی تجربات کے بعد عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں اور مختلف ترغیبات کے باوجود اُس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاکستان کے جوہری تجربات کا جرات مندانہ فیصلہ کیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا اور قومی دفاع مزید مضبوط بنا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 28 مئی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جس نے ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاع اور اسٹریٹیجک خودمختاری فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام قومی دفاع اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق شروع کیا گیا اور یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر مملکت نے ملکی سائنسدانوں، انجینئرز اور مسلح افواج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کی تاریخ کا عظیم دن ہے جب پوری قوم نے اتحاد، جرأت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 28 مئی 1998ء کو کیے گئے کامیاب جوہری دھماکوں نے نہ صرف خطے میں دفاعی توازن قائم کیا بلکہ دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں کردار ادا کرنے والی تمام شخصیات، سائنسدانوں، انجینئرز، افواجِ پاکستان اور کارکنان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام قومی خودداری، دفاعِ وطن اور امن کی علامت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے ہر اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں اور مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ دشمن کو کسی بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔