اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں، اسٹریٹجک معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں سے متعلق پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ مئی 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان قائم 75 سالہ تاریخی اور دیرینہ سفارتی تعلقات کی تقریبات کے پسِ منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے، جس میں دفاعی، معاشی اور خطے کی سلامتی کے امور پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مئی کے آخری ہفتے میں چین کا انتہائی کامیاب سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین اسٹریٹجک تعاون کو مزید بلندیوں پر لے جانے اور ہر آزمائش پر پورا اترنے والی دوستی کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے جیو پولیٹیکل حالات اور خصوصاً افغانستان کے معاملے پر مستقل اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا عزم دہرایا۔
اعلامیے کا سب سے اہم اور دوٹوک نکتہ انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی سے متعلق ہے۔ دونوں عالمی طاقتوں نے واضح کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) یا کسی بھی دوسرے دہشت گرد گروہ کو کسی بھی ملک کی زمین استعمال کر کے علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ مشترکہ اعلامیے میں دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر اپنائے جانے والے دہرے معیار کی شدید مخالفت کی گئی اور دفاعی و انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مزید فروغ دینے سمیت پاکستان میں مقیم چینی شہریوں، انجینئرز اور سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کو فول پروف اور مزید سخت بنانے کا پختہ عزم ظاہر کیا گیا۔
سفارتی محاذ پر پاکستان نے روایتی مخلصانہ برادری کا ثبوت دیتے ہوئے ‘ون چائنا پالیسی’ پر اپنی مکمل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ پاکستان تائیوان کے معاملے پر چین کے موقف کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی روایتی اور غیر متزلزل حمایت کا مکرر اعلان کیا۔ چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کروانے اور عالمی امن کو بچانے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی کھل کر تعریف کی۔ چین نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی آئندہ صدارت کے لیے بھی پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
معاشی اور صنعتی محاذ پر سی پیک 2.0 (CPEC) کے اعلیٰ معیار کی ترقی اور گوادر پورٹ کو خطے کا سب سے بڑا بحری و تجارتی رابطہ مرکز بنانے پر اتفاق ہوا، جبکہ دیگر دوست ممالک کو بھی سی پیک کے ان عظیم منصوبوں میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہے۔ قراقرم ہائی وے کے تھاکوٹ تا رائیکوٹ منصوبے کو مرحلہ وار ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور خنجراب پاس کے ذریعے پاک چین زمینی راستے کو بارہ مہینے فعال رکھ کر مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صنعتی تعاون کے تحت ٹیکسٹائل، ہوم اپلائنسز، معدنیات، تیل اور گیس کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی جبکہ چین نے پاکستانی زرعی مصنوعات کو اپنی مارکیٹ تک مزید آسان رسائی دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
دورے کا ایک اور تاریخی اور سنسنی خیز پہلو خلائی اور ٹیکنالوجی کا شعبہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے تبادلے پر اتفاق ہوا ہے۔ چین سال 2025 سے 2029 کے دوران پاکستان کو مختلف شعبوں میں 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دو پاکستانی خلا بازوں کو چین میں اعلیٰ ترین خلائی مشنز کے لیے تربیت دی جائے گی، جس کے بعد پاکستانی خلا باز چین کے اسپیس اسٹیشن پر جانے والے دنیا کے پہلے غیر ملکی خلا باز بننے کا منفرد اعزاز حاصل کر سکیں گے۔ دونوں ممالک نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کا عزم دہراتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی ہر بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں غیر متزلزل رہے گی۔