خوشی کہاں کھو گئی ہے؟

خوشی کی تلاش
تحریر: سـید نـذیـر شـاہ
خاکسار نے اپنی مختصر سی زندگی میں ایسے ایسے شاہکار دیکھے ہیں کہ بندہ انہیں دیکھ کر بس یہی کہہ سکتا ہے، یہ اللہ کی مرضی کے کام ہیں۔ اللہ میاں نے انسان کو دو ٹانگیں، دو ہاتھ، ایک دل اور ایک دماغ عطا کیا ہے، مگر ہمارے ہاں بعض لوگوں نے اپنی پوری شخصیت صرف ایک زبان کے سہارے کھڑی کر رکھی ہے۔ اور وہ زبان بھی ایسی کہ ہر وقت یا تو شکوے میں ہلتی ہے یا تنقید میں۔ یہ حضرات اگر جنت میں بھی پہنچ جائیں تو فرشتوں سے پہلا سوال یہی کریں گے کہ اے سی نان انورٹر تو نہیں ہے نا؟ بھائی، دودھ اور شہد کی نہریں تو ٹھیک ہیں، مگر ان میں برف کیوں نہیں ڈالی گئی؟

اس کی تازہ مثال چند روز پہلے پیش آئی۔ ایک بزرگ نما بےتکلف دوست ملنے تشریف لائے، موصوف کو شوگر کے باوجود بھائی عابد بانی کی مشہورِ زمانہ کھیرنی کا آدھا کلو چٹ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ چمچ چاٹتے ہوئے بولے یار ٹھیک ہے، لیکن ان کے فالودے کے ذائقے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اب بندہ پوچھے، میں نے آپ کو کھیر کھلائی ہے یا محکمہ خوراک کی انکوائری کمیٹی بٹھائی ہے؟ ایک طویل ڈکار مارتے ہوئے فرمانے لگے، ویسے بادام نہیں ڈالے۔ میں نے کہا، حضور! آپ کھیر کھانے آئے تھے یا خشک میوہ جات کی مردم شماری کرنے؟

فرمائشی کھیر کا صدمہ ابھی تازہ ہی تھا کہ موصوف نے چہرے پر ایسی سنجیدگی طاری کر لی جیسے حکومت نے واقعی پنشن بند کر دی ہو۔ میں نے پوچھا، خیریت ہے؟ فرمانے لگے، یار کل بیٹے نے نئی گاڑی لی ہے، مگر رنگ سفید لے آیا، میں تو بلیک کلر کا شوقین تھا۔ اب بندہ کہے، جوانی میں تو آپ کو سائیکل کرائے پر نہیں ملتی تھی، اب سر پر بلیک کلر لگانے کی عمر میں گاڑی آ گئی ہے تو کم از کم شکرانے کے دو نفل ہی پڑھ لیجیے۔ مگر نہیں، ہمارے بعض لوگ خوشی کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی ادھار مانگنے آ گیا ہو۔ کہنے لگے، ڈیفنس میں کوٹھی تو بنائی مگر سامنے پارک نہیں۔ میں نے کہا، سردار صاحب(آج کل سردار لکھواتے ہیں ) آپ کے بچپن میں تو گھر کے سامنے بڑی نالی ہوا کرتی تھی۔

ہر خوشی میں کیڑا نکالنے کی یہ بیماری اتفاقاً نہیں ہوتی۔ جدید ریسرچ کہتی ہے کہ یہ احساسِ کمتری اور پرانے صدمات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آسان لفظوں میں، موصوف اپنی زندگی سے اتنے زچ ہوتے ہیں کہ دنیا کا ہر ہنستا چہرہ دیکھ کر ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتا ہے۔ نیوروسائنس والے کہتے ہیں دماغ ایک سست ملازم کی طرح ہے، جس ڈیوٹی پر لگا دو اسی کا عادی ہو جاتا ہے۔ اگر آپ روز صبح اٹھ کر خامیاں نکالنے کی ٹریننگ کریں تو دماغ کا مثبت سوچ والا فیوز مستقل اڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عقلِ کُل اگر کروڑ پتی بھی بن جائیں تو اس بات پر کڑھتے رہیں گے کہ نوٹوں کی گڈی میں کچھ نوٹ پرانے کیوں ہیں۔

عالمی سروے بھی یہی بتاتے ہیں کہ جو لوگ زندگی کو ہلکے پھلکے اور ہمدردانہ انداز میں لیتے ہیں ان کا دل اور دماغ دونوں بہتر رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے تنقید پسند مجاہدین آہستہ آہستہ اتنے اکیلے رہ جاتے ہیں کہ گھر والے بھی انہیں آتا دیکھ کر کمرے بدل لیتے ہیں۔ پھر یہی صاحب مظلوم بن کر کہتے ہیں، "دیکھا، میں نہ کہتا تھا دنیا میں مخلص لوگ ختم ہو گئے ہیں۔” دانائی کا معیار یہ بن گیا ہے کہ جو جتنا ماتم کرے گا اتنا بڑا دانشور۔ ایک صاحب ہر مجلس میں ملک پر ایسا نوحہ پڑھتے ہیں کہ بندہ انہیں تسلی دینے لگتا ہے، حالانکہ ان کا اپنا کاروبار، بچے، گاڑیاں، بیرونِ ملک کے دورے، حج عمرے سب ماشاءاللہ چل رہے ہوتے ہیں۔ مگر دکھ یہ ہے کہ قوم سدھر کیوں نہیں رہی، گویا پوری قوم ان کے ذاتی ٹیوشن سینٹر کی طالب علم ہے۔

آج کل مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی خبریں ہیں، سعودی عرب، ایران اور ترکی پرانی دشمنیاں بھلا کر قریب آ رہے ہیں۔ ایک عام پاکستانی تو خوشی سے نہال ہے کہ چلو، اب سستا تیل اور گیس ملے گی، اشیاء کے دام گریں گے اور مہنگائی کی ماری عوام کو تھوڑا سکھ کا سانس نصیب ہوگا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شیعہ سنی تفریق کی دیواریں گر رہی ہیں جو مسلم امہ کے لیے ایک تاریخی معجزہ ہے۔ لیکن ہمارے روایتی نقاد منہ بنا کر کہتے ہیں، "کیا فائدہ اس اتحاد کا۔ کیا کشمیر آزاد ہو گیا؟ کیا مسجد اقصیٰ سے اسرائیلی قبضہ ختم ہو گیا؟ جب تک وہ نہیں ہوتا کیسی عید اور کیسی خوشی؟”

مسئلہ صرف فرد کا نہیں، ہمارے ہاں یہ رویہ باقاعدہ قومی ہنر بن چکا ہے۔ یہاں اگر کوئی بندہ ہنس دے تو لوگ اسے ایسے دیکھتے ہیں جیسے معیشت کا بیڑا اسی نے غرق کیا ہو۔ تنقید کو ذہانت اور حق گوئی کا سرٹیفکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ آپ بھولے سے کہہ دیں، "حالات بہتر ہونے کی امید ہے،” تو سامنے والا فوراً گھور کر کہے گا، چھوڑیں شاہ صاحب، یہ بتائیں ملک کے قرضے کیسے اتریں گے؟ اس عادت سے نہ صرف ان کا اپنا خون جلتا ہے بلکہ اردگرد والوں کا بلڈ پریشر بھی ہائی ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ زندگی بھر خوشی کے دروازے پر دستک دیتے رہتے ہیں، مگر جب دروازہ کھلتا ہے تو اندر جانے کے بجائے دروازے کے ڈیزائن میں نقص نکالنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ ان سے دور بھاگتے ہیں، گھر والے اور دوست ان کی آمد پر ایسے منتشر ہوتے ہیں جیسے چھاپہ پڑ گیا ہو۔ پھر یہ افسردہ ہو کر کہتے ہیں، "آج کل کسی کو سچ پسند نہیں۔” حالانکہ سچ اور مسلسل کڑواہٹ میں فرق ہوتا ہے۔

خاکسار کا خیال ہے کہ زندگی ویسے ہی بے وفا اور مختصر ہے۔ اس میں اگر ایک کپ اچھی چائے، کسی دوست کا بے تکلف قہقہہ، بچوں کی شرارت یا شام کی ہلکی ہوا بھی مل جائے تو اسے غنیمت جاننا چاہیے۔ کیونکہ جو لوگ ہر خوشی کے پیچھے چھپا ہوا دکھ تلاش کرتے رہتے ہیں، وہ آخرکار دکھ بھی کھو بیٹھتے ہیں اور سکھ بھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے