اوچ شریف (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف شہر اور گردونواح میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مبینہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے باعث مضرِ صحت مشروبات، جعلی فالودہ، غیر معیاری قلفیوں اور کیمیکل ملے شربتوں کی سرعام فروخت نے شہریوں خصوصاً معصوم بچوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
شدید گرمی کے موسم میں شہری ٹھنڈک کے حصول کیلئے بازاروں کا رخ کرتے ہیں، مگر مختلف مقامات پر قائم غیر قانونی اسٹالز اور ریڑھیوں پر فروخت ہونے والی اشیاء بیماریوں کا سبب بننے لگی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلے عام فروخت ہونے والی قلفیوں اور فالودہ میں ناقص دودھ، کیمیکل، زہریلے رنگ، غیر معیاری برف اور دیگر مضر اجزاء استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث معدے، جگر، گلے اور جلدی امراض میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں صرف بہاولپور شہر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ اوچ شریف، احمدپور شرقیہ اور مضافاتی علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق قومی شاہراہوں، پٹرول پمپوں، بازاروں اور گلی محلوں میں “ملتانی قلفی” اور ٹھنڈے مشروبات کے نام پر غیر منظور شدہ پوائنٹس کی بھرمار ہو چکی ہے جہاں نہ صفائی کا کوئی مناسب انتظام ہے اور نہ ہی خوراک کے معیار کو جانچنے والا کوئی مؤثر نظام موجود ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکلوں اور ریڑھیوں پر ناقص قلفیاں اور مشروبات فروخت کرنے والے افراد معصوم بچوں میں بیماریاں بانٹنے میں مصروف ہیں جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
سماجی تنظیموں، والدین اور شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ اوچ شریف میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر ناقص اور مضرِ صحت اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔