کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق دھماکا چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر اس وقت ہوا جب معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ دھماکے کے باعث ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا اور قریب کھڑی متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے سے کم از کم 10 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو حفاظتی اقدامات کے تحت کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا جبکہ ریلوے ٹریک کی مکمل جانچ پڑتال اور مرمت تک ٹرینوں کی آمد و رفت محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال اور سنڈیمن اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق 20 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ڈاکٹرز و طبی عملے کو فوری طلب کر لیا گیا۔
معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی ہے جن میں فرنٹیئر کور کے 3 اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردوں نے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا کر بزدلانہ کارروائی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کرنے اور دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مقامات کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
واقعے کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں نے حساس مقامات پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔