امریکی مڈٹرم الیکشن
تحریر ۔ سـید نـذیـر شـاہ
فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی حملوں کا آغاز کیا جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا۔ اس کارروائی میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا امریکی صدر ٹرمپ اگرچہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے کمانڈر انچیف ہیں، لیکن ایران کے ساتھ طویل جنگ جاری رکھنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا اور اس کی ایک بڑی وجہ نومبر 2026 میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن ہیں امریکی آئین کے مطابق جنگ کا باقاعدہ اعلان کرنے اور اس کے اخراجات کے لیے فنڈز منظور کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ یعنی کانگریس کے پاس ہے صدر کسی ہنگامی ضرورت کے تحت فوج تو بھیج سکتا ہے، لیکن اسے 48 گھنٹوں کے اندر پارلیمنٹ کو بتانا پڑتا ہے اور 60 دنوں کے اندر ان سے باقاعدہ منظوری لینی ہوتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ اجازت نہ دے تو صدر کو فوج واپس بلانی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مڈٹرم الیکشن اہم ہوتے ہیں، کیونکہ اگر پارلیمنٹ میں مخالف پارٹی جیت جائے تو وہ جنگ کے لیے پیسے روک کر یا کڑی نگرانی کے ذریعے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کر سکتی ہے، صدر فوج کا کمانڈر تو ہے مگر وہ پارلیمنٹ کی اجازت اور بجٹ کے بغیر طویل جنگ نہیں لڑ سکتا۔
امریکہ میں صوبوں کی اصطلاح استعمال نہیں ہوتی اس کی بجائے امریکہ کا نظامِ حکومت پچاس ریاستوں پر مشتمل ایک ایسی وفاقی جمہوریت ہے جہاں طاقت کسی ایک شخص کے پاس نہیں ہوتی وہاں کا آئین سب سے پرانا اور تحریری شکل میں موجود ہے، جس کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی ہے کہ ملک چلانے والے تمام ادارے ایک دوسرے پر نظر رکھیں اور کوئی اکیلا اپنی مرضی نہ چلا سکے اس نظام میں ایک طرف صدر ہوتا ہےجس کی مدت چار سال ہوتی ہے اور دوسری طرف وہاں کی پارلیمنٹ ہے، جسے کانگریس کہا جاتا ہے یہ پارلیمنٹ پاکستان کی طرح دو حصوں پر مشتمل ہے ایک ایوانِ نمائندگان اور دوسری سینیٹ ۔ ایوانِ نمائندگان کے رکن کو کانگریس مین کہا جاتا ہے جس کی مدت دو سال اور وہ بالکل پاکستان کے ایم این اے (MNA) کی طرح اپنے علاقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ سینیٹر جس کی مدت 6 سال ہوتی ہے، جو پورے صوبے یا ریاست کے عوام سےبراہِ راست ووٹ لے کرنمائندگی کرتا ہے۔ ان دونوں کا کام مل کر قانون بنانا، ملک کا خرچہ یعنی بجٹ منظور کرنا اور صدر کے کاموں پر نظر رکھنا ہے۔
صدر بننے کا طریقہ بھی وہاں ذرا مختلف ہے۔ پہلے سیاسی جماعتوں کے اندر مقابلہ ہوتا ہے کہ کون الیکشن لڑے گا، پھر اصل الیکشن میں عوام براہِ راست صدر کو ووٹ دینے کے بجائے الیکٹرز کو چنتے ہیں اور وہ الیکٹرز مل کر صدر کا فیصلہ کرتے ہیں جس امیدوار کو 270 ووٹ مل جائیں وہ فاتح قرار پاتا ہے۔ الیکٹرز کا کردار محض ووٹنگ تک محدود ہوتا ہے یہ کوئی مستقل عہدہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس حکومت چلانے یا قانون بنانے کی کوئی سیاسی طاقت ہوتی ہے الیکٹرزکے پاس صرف ایک کام ہوتا ہے صدر اور نائب صدر کو ووٹ دینا اس کے بعد ان کا کام ختم ہو جاتا ہے صدر ملک کا انتظامی سربراہ اور فوج کا کمانڈر انچیف ہوتا ہے، مگر وہ اپنی مرضی سے کوئی نیا قانون نہیں بنا سکتا اسے ہر بڑے کام کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری لینی پڑتی ہے اگر صدر کسی قانون کو ناپسند کر کے رد کر دے تو پارلیمنٹ کے پاس یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے دوبارہ اس قانون کو منظور کر لے، جس کے بعد صدر بھی اسے نہیں روک سکتا۔
امریکہ میں صدر کا انتخاب تو ہر چار سال بعد ہوتا ہے، لیکن وہاں کیونکہ قومی اسمبلی یعنی ایوانِ نمائندگان کے ارکان کی مدت صرف دو سال ہوتی ہے اسی وجہ سے صدر کی چار سالہ مدت کے عین بیچ میں ایک بار پھر بڑے الیکشن ہوتے ہیں، جنہیں مڈٹرم الیکشن یا وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے ان انتخابات میں صدر تو نہیں بدلا جاتا، لیکن عوام اپنی پوری پارلیمنٹ کو بدلنے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نومبر 2026 میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن اسی لیے بہت اہم ہیں کیونکہ یہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گے ان انتخابات کے نتائج سے پتا چلے گا کہ امریکی عوام صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے خوش ہیں یا ناراض ان مڈٹرم انتخابات کے لیے ووٹنگ کا پورا نظام وہی ہوتا ہے، لیکن بیلٹ پیپر پر صدر یا نائب صدر کا نام موجود نہیں ہوتا عوام صرف اپنے علاقے کے کانگریس مین (MNA) اور اپنی ریاست کے سینیٹر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔
امریکہ میں وزیراعظم کا عہدہ نہیں ہوتا، بلکہ وہاں صدر کے بعد سب سے اہم عہدہ نائب صدر کا ہوتا ہے۔ نائب صدر کا انتخاب صدر کے ساتھ ہی ہوتا ہے اور یہ دونوں ایک ٹیم کے طور پر چار سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ نائب صدر کا ایک اہم کام امریکی سینیٹ یعنی پارلیمنٹ کے بڑے ایوان کی سربراہی کرنا ہے، جہاں کسی قانون پر ووٹ برابر ہو جانے کی صورت میں وہ اپنا فیصلہ کن ووٹ ڈالنے کا اختیار رکھتا ہے۔اگر صدر کا مواخذہ ہو جائے اور اسے عہدے سے ہٹا دیا جائے، یا وہ اپنی مرضی سے استعفیٰ دے دے، یا پھر بیماری یا وفات کی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے، تو نائب صدر خود بخود ملک کا صدر بن جاتا ہے یہ عمل اتنا فوری ہوتا ہے کہ صدر کا عہدہ ایک لمحے کے لیے بھی خالی نہیں رہتا جیسے ہی صدر کی معزولی یا وفات کی تصدیق ہوتی ہے، نائب صدر سے صدارت کا حلف لیا جاتا ہے اور وہ افواج کا سربراہ یعنی کمانڈر انچیف بن جاتا ہے وہ محض عارضی طور پر کام نہیں سنبھالتا بلکہ صدر کی بقیہ پوری مدت کے لیے ملک کا مکمل بااختیار صدر قرار پاتا ہے-
مڈٹرم الیکشن کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ صدر کی طاقت کا فیصلہ کرتے ہیں کانگریس مین کی کل تعداد 435 ہے یہ وہ ارکان ہیں جنہیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے اگر ہم اس میں دوسرے حصے یعنی سینیٹ کے 100 ارکان کو بھی شامل کر لیں، تو پوری امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) کے کل ووٹ دینے والے ارکان کی تعداد 535 بن جاتی ہےمطلب، جب بھی کسی قانون پر فیصلہ ہوتا ہے تو ان 535 لوگوں کے ووٹوں کی اہمیت ہوتی ہے اگر صدر کی مخالف پارٹی، یعنی ڈیموکریٹس، پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لیں تو صدر ٹرمپ کے لیے حکومت چلانا بہت مشکل ہو جائے گا ایسی صورت میں مخالف جماعت صدر کے کسی بھی نئے قانون کو روک سکتی ہے اور انہیں کام کرنے کے لیے بجٹ دینے سے انکار کر سکتی ہے یہاں تک کہ اگر صدر کوئی غلط کام کرے تو پارلیمنٹ اسے عہدے سے ہٹانے کے لیے مواخذہ کی کارروائی بھی کر سکتی ہے، اگرچہ یہ ایک بہت مشکل اورکافی پیچیدہ عمل ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی امریکی صدر کسی غیر ضروری جنگ میں ملک کو دھکیلتا ہے، عوام مڈٹرم الیکشن میں مخالف پارٹی کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں اکثریت دلا دیتے ہیں بات صرف اتنی ہے کہ امریکیوں نے اپنے آئین میں چیک اینڈ بیلنس کا ایک ایسا جال بچھایا ہے کہ وہاں کوئی بھی شخص قانون سے بڑا نہیں ہو سکتا اگر صدر پارلیمنٹ کے کسی فیصلے کو ویٹو کر دے تو پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے اس ویٹو کو ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتی ہے۔ مڈٹرم الیکشن صدر کو گھر تو نہیں بھیجتے لیکن اسے یہ پیغام ضرور دے دیتے ہیں کہ جناب! آپ ملک کے مالک نہیں بلکہ خادم ہیں اور آپ کو مخالفین کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا یہ وہ سبق ہے جو ہم جیسے ممالک کے لیے بہت ضروری ہے کہ ریاستیں افراد کی مرضی سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم سے چلتی ہیں امریکہ کی طاقت اسکی مسلط کردہ جنگوں میں نہیں، بلکہ اس کے اس نظام میں ہے جہاں ایک عام کانگریس مین بھی وقت کے طاقتور ترین صدر کا راستہ روک کر کھڑا ہو سکتا ہے۔