انمول عرف پنکی کیس میں ایس ایس پی سٹی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

کراچی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار ڈاکٹر بشیر بلوچ) منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں انتہائی اہم اور سنسنی خیز پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد کیس کا دائرہ کار انسداد دہشت گردی سیل (سی ٹی ڈی) تک پھیل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کے الزام میں سی ٹی ڈی سول لائنز میں تعینات دو اہلکاروں، اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی کو حراست میں لے کر ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی کفیل نے چند برس قبل پنکی کے ایک رائیڈر کو پکڑا تھا، جس کے بعد اسی رائیڈر کے ذریعے ملزمہ پنکی سے رابطے بڑھائے گئے، جبکہ کفیل نے اپنے ساتھی سپاہی علی کے ذریعے ملزمہ کو مبینہ طور پر سپورٹ فراہم کی۔ دونوں اہلکاروں کو صبح دفتر طلب کر کے ملزمہ سے تعلقات کے بارے میں بازپرس کی گئی، تاہم وہ تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، جس پر انہیں حراست میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب اس ہائی پروفائل منشیات کیس کی گونج اعلیٰ حکام تک پہنچنے کے بعد وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر ضلعی ایس ایس پی سٹی علی حسن کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس کی وجہ سے ایس ایچ او گارڈن، ایس آئی او گارڈن، انویسٹی گیشن افسر (آئی او) اور دو خواتین پولیس اہلکاروں کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے، جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو بھی پریس کانفرنس میں اشارہ دے چکے ہیں کہ اس نیٹ ورک میں کئی معتبر شخصیات بے نقاب ہو سکتی ہیں۔

ادھر عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو مزید 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزمہ کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں تھانہ درخشاں کے پانچ اور تھانہ گزری کے تین مقدمات میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ ملزمہ قتل اور منشیات برآمدگی کے دیگر کیسز میں پہلے ہی 22 مئی تک پولیس کی تحویل میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے