اویس لغاری کی سستی بجلی اور ٹیکسوں کا سونامی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستانی عوام اس وقت جس معاشی عذاب، مہنگائی، بے یقینی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے زندگی گزار رہے ہیں، شاید ماضی میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہو۔ ایک طرف حکومت معاشی استحکام، اصلاحات اور عوامی ریلیف کے دعوے کرتی ہے، تو دوسری جانب عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی، بجلی کا بل اور پٹرول کی قیمتیں کسی ڈراؤنے خواب سے کم محسوس نہیں ہوتیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے “سستی بجلی” کی نوید یقیناً عوام کے لیے حیران کن بھی ہے اور سوالیہ نشان بھی۔
لاہور میں ایک پاور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے دعویٰ کیا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں انقلابی اصلاحات لا رہی ہے، آئی پی پیز کا باب بند کر دیا گیا ہے، بجلی سستی ہونے جا رہی ہے، اور وقت دور نہیں جب لوگ دن کے وقت بجلی محفوظ کر کے رات کو استعمال کیا کریں گے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند بیان ہے، مگر زمینی حقائق، بجلی کے بلوں اور عوامی مشکلات کا جائزہ لیا جائے تو یہ دعوے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتے ہیں۔
آج ایک عام پاکستانی شہری جب اپنا بجلی کا بل دیکھتا ہے تو وہ صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت ادا نہیں کرتا بلکہ اس پر ٹیکسوں، سرچارجز، ایڈجسٹمنٹس اور فیسوں کا ایسا طوفان مسلط کیا جاچکا ہے جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بجلی کا بنیادی ٹیرف تقریباً 33 روپے فی یونٹ بتایا جاتا ہے، مگر جب بل ہاتھ میں آتا ہے تو فی یونٹ قیمت 50 سے 70 روپے تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اضافی رقم کہاں جاتی ہے؟
بل میں 18 فیصد جی ایس ٹی، ڈیٹ سروس سرچارج، فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ، کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، الیکٹرسٹی ڈیوٹی، نیلم جہلم سرچارج، ٹی وی لائسنس فیس، فکسڈ چارجز اور میٹر رینٹ جیسے درجنوں نام شامل ہوتے ہیں۔ ایک غریب آدمی جو بمشکل چند پنکھے اور بلب استعمال کرتا ہے، وہ بھی ان ٹیکسوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بجلی نہیں بلکہ عوام کے صبر کا امتحان فروخت کر رہی ہے۔
سب سے دلچسپ اور تکلیف دہ معاملہ “میٹر رینٹ” کا ہے۔ صارف خود ڈیمانڈ نوٹس جمع کروا کر میٹر خریدتا ہے، اس کی قیمت ادا کرتا ہے، مگر پھر بھی ہر ماہ اسے میٹر کا کرایہ دینا پڑتا ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر جس چیز کی قیمت ہم پہلے ہی ادا کر چکے، اس کا کرایہ کس قانون اور منطق کے تحت وصول کیا جا رہا ہے؟ اسی طرح لائن رینٹ اور دیگر چارجز نے بجلی کے بل کو ایک پیچیدہ معمہ بنا دیا ہے، جسے عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے۔
اویس لغاری کہتے ہیں کہ آئی پی پیز کو “دفن” کر دیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر بجلی سستی کیوں نہیں ہو رہی؟ اگر حکومت نے مہنگے معاہدے ختم کر دیے، اگر خسارے کم ہو گئے، اگر اصلاحات نافذ ہو رہی ہیں تو پھر عوام کو ریلیف کب ملے گا؟ آخر کیوں ہر چند ماہ بعد بجلی مزید مہنگی کر دی جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ایک ہاتھ سے وعدے کیے اور دوسرے ہاتھ سے نئے ٹیکس نافذ کر دیے۔
یہی صورتحال پٹرول کی قیمتوں میں بھی نظر آتی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو یا اضافہ، پاکستانی عوام کے لیے پٹرول مسلسل مہنگا ہی رہتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اصل لاگت سے کہیں زیادہ حصہ ٹیکسوں اور لیویز کا شامل ہے۔ پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، کسٹمز ڈیوٹی الگ، کلائمیٹ لیوی الگ، او ایم سی مارجن الگ، ڈیلر کمیشن الگ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے عوام کی گاڑیوں کے ٹینکوں کو ریونیو مشین بنا دیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکس معیشت چلانے، ترقیاتی منصوبوں اور سبسڈیز کے لیے ضروری ہیں، مگر عوام پوچھتے ہیں کہ آخر یہ سبسڈیز کہاں ہیں؟ اگر اتنے بھاری ٹیکس لیے جا رہے ہیں تو پھر تعلیم کیوں تباہ حال ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کیوں نہیں؟ سڑکیں ٹوٹی ہوئی کیوں ہیں؟ روزگار کے مواقع کیوں کم ہو رہے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کی قوتِ خرید کیوں ختم ہوتی جا رہی ہے؟
پاکستان میں اس وقت متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ غریب آدمی پہلے ہی حکومتی امداد یا خیرات کا محتاج بنا دیا گیا ہے، جبکہ امیر طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کے راستے نکال لیتا ہے۔ اصل بوجھ تنخواہ دار طبقے، چھوٹے تاجروں، مزدوروں، کسانوں اور سفید پوش خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ ایک سرکاری ملازم کی آدھی تنخواہ بجلی، گیس، پٹرول اور ٹیکسوں میں چلی جاتی ہے، جبکہ باقی آدھی مہنگائی نگل جاتی ہے۔
حکمران بار بار کہتے ہیں کہ مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ مشکل فیصلے ہمیشہ عوام کے لیے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ کیا کبھی اشرافیہ نے بھی قربانی دی؟ کیا کبھی حکومتی اخراجات کم کیے گئے؟ کیا وزراء، مشیروں، پروٹوکول اور سرکاری عیاشیوں میں کمی آئی؟ اگر نہیں، تو پھر صرف عوام ہی کیوں قربانی دیں؟
اویس لغاری کی سستی بجلی کی نوید سن کر عوام کے دل سے بے اختیار یہی آواز نکلتی ہے کہ پہلے موجودہ بل تو قابلِ برداشت بنا دیں۔ ایسے دعوے تب اچھے لگتے ہیں جب عوام کو عملی ریلیف ملے، نہ کہ صرف سیمیناروں اور پریس کانفرنسوں میں خواب دکھائے جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام اب الفاظ نہیں بلکہ نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں سستی بجلی کا خواب نہیں، کم بل چاہیے۔ انہیں معاشی استحکام کے لیکچر نہیں، سستا پٹرول چاہیے۔ انہیں ٹیکسوں کے نئے نام نہیں، زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔
اگر حکومت واقعی عوامی ریلیف چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے ٹیکسوں کے اس سونامی کو روکنا ہوگا۔ بجلی کے بلوں کو سادہ، شفاف اور قابلِ برداشت بنانا ہوگا۔ غیر ضروری سرچارجز ختم کرنا ہوں گے۔ پٹرولیم لیوی میں کمی کرنا ہوگی۔ اور سب سے بڑھ کر حکمرانوں کو عوام کے دکھ درد کو محسوس کرنا ہوگا۔
ورنہ حالات یہی رہے تو عوام کے دلوں سے یہی صدا بلند ہوتی رہے گی:
“گر یقیں ہوتا خوشی سے مر نہ جاتے”
