آئندہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جائے گی، میر شعیب نوشیروانی

کوئٹہ (کیو این این ورلڈ): وزیر خزانہ بلوچستانمیر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ اگر صوبے میں الاٹ شدہ مائنز پر عملی طور پر کام کیا جاتا تو بلوچستان کے عوام کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آتے۔

کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کے بعد بلوچستان کا بجٹ پیش کیا جائے گا، جبکہ آئندہ بجٹ میں محکمہ تعلیم اور صحت کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

میر شعیب نوشیروانی کا کہنا تھا کہ مالی سال 2025-26 کے نان ڈویلپمنٹ بجٹ کی مکمل ریلیز کی جا چکی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان صوبے میں جاری ہر ترقیاتی اسکیم کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بلوچستان کا اپنا واضح مؤقف موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں سیمنٹ اور سریا سمیت بیشتر تعمیراتی سامان دیگر صوبوں سے آتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بلوچستان حکومت این ایف سی میں رقبے کو بھی ایک اہم انڈیکیٹر کے طور پر شامل کرنے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منرل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن اتھارٹی کا مقصد معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور مائنز کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں متعدد مائنز ایسی ہیں جنہیں الاٹ تو کیا گیا مگر ان پر عملی کام نہیں ہوا۔ اگر ان منصوبوں پر کام کیا جاتا تو مقامی لوگوں کو وسیع پیمانے پر روزگار مل سکتا تھا۔

میر شعیب نوشیروانی نے سرکاری ملازمین کے صبر اور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ ملکی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کو اپنے وسائل پر کھڑا کرنا حکومت کی ترجیح ہے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ کے چیئرمین وزیر اعلیٰ بلوچستان خود ہیں اور صوبے کی اپنی انشورنس کمپنی قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے