سونے کی قیمتوں سے شادیوں کے رجحانات تبدیل، دلہنیں نقلی زیورات پہننے لگیں

کراچی (کیو این این ورلڈ) جنوبی ایشیا میں سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتوں نے نہ صرف معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے بلکہ اس کے اثرات معاشرتی روایات، خاص طور پر شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ صدیوں سے دلہن کے زیورات میں سونے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے متوسط اور حتیٰ کہ اعلیٰ متوسط طبقے کے لیے بھی خالص سونے کے زیورات خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔ جہاں پہلے شادیوں میں بھاری بھرکم سونے کے سیٹ، چوڑیاں اور دیگر زیورات دلہن کی شان سمجھے جاتے تھے، وہیں اب ان کی جگہ مصنوعی یا متبادل زیورات نے لینا شروع کر دی ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایک گرام گولڈ جیولری، گولڈ پلیٹڈ سیٹس اور ہائی کوالٹی امیٹیشن جیولری کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ صارفین اب ایسے زیورات کو ترجیح دے رہے ہیں جو دیکھنے میں خوبصورت ہوں مگر قیمت کے لحاظ سے قابلِ برداشت ہوں۔ خاص طور پر شادیوں کے لیے تیار کیے جانے والے مصنوعی زیورات اس قدر نفیس انداز میں بنائے جا رہے ہیں کہ بظاہر اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ماہرین سماجیات کے مطابق یہ تبدیلی محض معاشی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ نوجوان نسل فضول اخراجات سے گریز کرتے ہوئے سادگی کو اپنانے لگی ہے، اور شادیوں کو آسان بنانے کی سوچ فروغ پا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دلہنیں بھی بھاری زیورات کے بجائے ہلکے اور جدید طرز کے متبادل زیورات کو ترجیح دے رہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان، بھارت اور بنگلادیش جیسے ممالک میں سونے کی مجموعی خریداری میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سونا اب محض زیبائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اسے زیادہ تر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ زیورات کی بجائے سونے کو بطور اثاثہ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں مالی تحفظ حاصل کیا جا سکے۔

جیولری انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر سونے کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں شادیوں کے انداز مزید تبدیل ہو سکتے ہیں، جہاں سادگی، کفایت شعاری اور متبادل آپشنز کو مزید فروغ ملے گا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ سونے کی بڑھتی قیمتوں نے نہ صرف بازار کا رخ بدلا ہے بلکہ معاشرتی اقدار اور شادیوں کی روایتی چمک دمک کو بھی ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جہاں دکھاوے کی جگہ حقیقت پسندی اور سادگی نے لینا شروع کر دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے