مہنگائی کی نئی لہر شدت اختیار کر گئی

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ملک میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر سمیت مختلف شعبے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 33 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 25 اپریل سے کیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور علاقائی کشیدگی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی تاہم موجودہ معاشی صورتحال میں مکمل ریلیف دینا ممکن نہیں رہا۔

دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے کرایوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید دباؤ میں ہے اور کاروباری اخراجات میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست عام صارف تک پہنچیں گے جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہی گھی، خوردنی تیل، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ چکا ہے جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ادھر وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 13.98 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ ہفتے 12.16 فیصد تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق آلو، بریڈ، کوکنگ آئل، انڈے، مٹن، چکن اور گھی سمیت متعدد اشیاء مزید مہنگی ہوئیں، جس سے شہریوں پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی رپورٹ میں کچھ ریلیف بھی سامنے آیا ہے جہاں ٹماٹر، پیاز، ڈیزل، ایل پی جی، آٹا اور چینی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر مہنگائی کا دباؤ اب بھی برقرار ہے اور عوام کو ریلیف کے اثرات محدود سطح تک ہی مل رہے ہیں۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی، مقامی سپلائی چین اور حکومتی پالیسیوں کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، اور اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگائی کا دباؤ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے