لکھنؤ/آسام (کیو این این ورلڈ) بھارتی ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر متنازع بیان دیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے، جس پر سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
آسام میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست آسام کو "مسلم دراندازوں” سے پاک کر سکتی ہے اور ہر مسلمان کی نشاندہی کر کے اسے نکالا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو ناقدین نے کھلی امتیازی سوچ اور نفرت انگیزی قرار دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اترپردیش میں اب سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ عبادت گاہوں سے بلند آواز میں عبادات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان پر انسانی حقوق کے حلقوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل متوقع ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔