امریکا، ایران اور اسرائیل میں شدید جنگی تصادم؛ طیارے تباہ، بڑے حملے، جنگ بندی مسترد، خطہ تباہی کے دہانے پر

تہران/واشنگٹن/تل ابیب (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں فضائی جھڑپیں، میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں اور سفارتی محاذ پر سخت بیانات نے صورتحال کو مکمل جنگ کے قریب پہنچا دیا ہے، جبکہ ایران نے امریکی جنگ بندی تجویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیز فائر صرف اس کی شرائط پر ہی ممکن ہوگا۔

ایرانی فضائیہ نے اپنی حدود اور آبنائے ہرمز کے اطراف کارروائیوں کے دوران متعدد امریکی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ایف-15، اے-10 اور ایف-35 جیسے جدید طیارے شامل بتائے گئے ہیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی کچھ طیاروں کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔ ایک ایف-15 طیارے کے عملے میں شامل ایک اہلکار کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے، اسی دوران ریسکیو مشن کے لیے جانے والے امریکی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون بھی ایرانی حملوں کی زد میں آئے، تاہم امریکا کے مطابق اہلکار محفوظ رہے اور آپریشن جاری ہے۔

ان واقعات کے بعد اسرائیل نے ایران پر اپنے مجوزہ حملے عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تاکہ امریکی ریسکیو آپریشن متاثر نہ ہو، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ جو شہری کسی امریکی پائلٹ کو گرفتار کرے گا اسے انعام دیا جائے گا۔

ایران نے نہ صرف امریکی اہداف بلکہ اسرائیل کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آپریشن “وعدہ حق 4” کے تحت اسرائیل کے 50 سے زائد مقامات، فوجی اڈوں، سپورٹ سینٹرز اور اہم تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جن میں تل ابیب، حیفہ اور دیگر مرکزی علاقے شامل ہیں۔ ان حملوں میں متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں، آگ بھڑک اٹھی اور اسرائیلی دفاعی نظام کئی حملے روکنے میں ناکام رہا۔

ایرانی کارروائیوں میں امریکی اسٹریٹجک ریڈار سسٹمز اور بحری تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ بحرین اور خطے کے دیگر مقامات پر حساس فوجی تنصیبات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے نتیجے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان کی امریکی حکام نے تصدیق کی ہے، جہاں ڈرون حملوں سے عمارت کے محفوظ حصے بھی تباہ ہوگئے۔

ادھر اسرائیل نے بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے لبنان کے علاقے وادی بقاع میں ڈرون حملے میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ مغربی کنارے میں ایک متنازع واقعے پر اسرائیلی فوجی کو معطل کر دیا گیا جس نے ایک فلسطینی قیدی کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا تھا۔

ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں جانی و مالی نقصان بڑھتا جا رہا ہے، ایرانی وزارت صحت کے مطابق حملوں میں شہادتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 26 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور سینکڑوں تعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی پیشکش کو ایران نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی سیز فائر قابل قبول نہیں اور صرف مستقل جنگ بندی ہی قابلِ غور ہوگی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکا پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور جنگ کے نقصانات کا ازالہ بھی ایران کے مطالبات میں شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے اور ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں، جس پر ایرانی قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں خطہ شدید غیر یقینی کا شکار ہے جہاں ایک جانب براہ راست فوجی تصادم بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، جس کے باعث ایک بڑی علاقائی جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے