پندری والا میلہ: روحانیت کا سفر یا بدلتا ہوا منظر؟
تحریر: حبیب خان (نامہ نگار کیو این این ورلڈ، اوچ شریف)
اوچ شریف کی سرزمین صدیوں سے روحانیت، تصوف اور اولیائے کرام کی تعلیمات کا مرکز رہی ہے۔ یہی وہ دھرتی ہے جہاں ہر سال "پندری والا میلہ” عقیدت، محبت اور صوفیانہ روایتوں کا ایک خوبصورت امتزاج لے کر جلوہ گر ہوتا ہے۔ اس سال بھی بروز جمعۃ المبارک اس تاریخی میلے کا آغاز ہو چکا ہے اور شہر ایک بار پھر زائرین کے ہجوم سے بھر گیا ہے۔
جب مزاراتِ اولیاء، خصوصاً حضرت محبوب سبحانیؒ اور حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کے آستانوں پر عقیدت مندوں کا ہجوم دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ ہاتھوں میں چادریں، لبوں پر درود و سلام اور آنکھوں میں امید کی چمک اس بات کا ثبوت ہیں کہ صدیوں پرانی روحانیت آج بھی زندہ ہے۔
ماضی میں یہ میلہ محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی اجتماع ہوا کرتا تھا۔ لوگ میلوں پیدل سفر طے کر کے یہاں پہنچتے، ذکر و فکر کی محافل سجاتے اور اپنی اصلاح کا سامان کرتے تھے۔ شہر کی فضا عرقِ گلاب سے مہکتی اور چراغاں سے روشن ہوتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب میلہ دلوں کو جوڑنے اور روح کو سنوارنے کا حقیقی ذریعہ بنتا تھا۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میلے کا رنگ بدلتا جا رہا ہے۔ آج یہاں روحانیت کے ساتھ ایک بڑا تجارتی اور تفریحی پہلو بھی جڑ چکا ہے۔ جھولے، بازار اور کھیل تماشے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس میلے کی اصل روح کو کہیں کھو تو نہیں رہے؟
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی بعض حلقوں کی جانب سے شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ میلے کے دوران منشیات فروشی اور جیب تراشی جیسی غیر اخلاقی سرگرمیاں سر اٹھا رہی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ انتظامیہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہم اپنی ان عظیم روحانی روایات کی حفاظت کر پا رہے ہیں؟
پندری والا میلہ اوچ شریف کی پہچان ہے جو ہمیں صوفیاء کرام کی محبت، بھائی چارے اور انسانیت پر مبنی تعلیمات کی یاد دلاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس روایت کو محض ایک میلہ نہ بننے دیں بلکہ اسے اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ رکھیں۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کرے اور منفی سرگرمیوں کا سختی سے سدباب کرے، جبکہ عوام کو بھی اس میلے کی حرمت کا خیال رکھنا ہوگا۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو یہ میلہ نہ صرف روحانیت کا مرکز بن سکتا ہے بلکہ دنیا بھر میں اوچ شریف کا مثبت تشخص بھی اجاگر کر سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پندری والا میلہ صرف ایک روایت نہیں بلکہ ہماری نیتوں اور ترجیحات کا امتحان ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی روحانی وراثت کو آنے والی نسلوں کے لیے کس حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔