اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف سے گزرنے والی قومی شاہراہ، ہیڈ پنجند تا طاہر والی روڈ، پر منشیات فروشوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مقامی آبادی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
زمینی حقائق اور مقامی ذرائع کے مطابق، یہ اہم شاہراہ، جو کبھی تجارتی گاڑیوں اور مسافروں کے لیے سہولت کا ذریعہ تھی، اب غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہے۔ سی پیک انٹرچینج کے قیام کے بعد اس کی تجارتی اہمیت میں اضافہ ہوا، لیکن جرائم پیشہ عناصر نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ شاہراہ پر قائم ہوٹلوں، ڈھابوں اور چائے خانوں کو منشیات کے مکروہ کاروبار کے لیے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شام کے اوقات میں ہیڈ پنجند سے طاہر والی تک ہوٹلوں اور ڈھابوں میں چرس، آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء کھلے عام فروخت کی جاتی ہیں۔ نوجوان نسل تیزی سے اس لعنت کا شکار ہو رہی ہے، اور علاقے کے متعدد دیہات—پتی کھیارہ، چناب رسول پور، بیٹ احمد، بیٹ بختیاری، کچی لعل اور گردونواح—منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔
شہری حلقوں نے اس صورتحال کو "خاموش تباہی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو پورا علاقہ جرائم اور منشیات کے نرغے میں آ سکتا ہے۔ والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کا مستقبل شدید خطرے میں ہے، اور خواتین، بزرگ اور والدین خوف و پریشانی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اہل علاقہ نے پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مشتبہ ہوٹلوں، ڈھابوں اور چائے خانوں کی فوری اور جامع چھان بین کی جائے، ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، اور شاہراہ پر پولیس گشت کو موثر بنایا جائے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے اس سنگین مسئلے کا ہنگامی نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور زور دیا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔