ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار احسان اللہ ایاز) حکومت پنجاب کی ہدایت پر ضلع ننکانہ صاحب میں دیوالی، ایسٹر اور ویساکھی کے موقع پر 318 اقلیتی مرد و خواتین میں مالی امداد کے چیکس تقسیم کر دیے گئے۔
چیکس تقسیم کرنے کی باقاعدہ تقریب میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق ان چیکس سے 198 مسیحی، 99 سکھ اور 21 ہندو خاندان مستفید ہوئے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے اور یہاں مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اقلیتی امور کا بجٹ 50 کروڑ سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دیا ہے، جس سے اس شعبے کو مزید استحکام ملا ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ایک لاکھ مستحق اقلیتی خاندانوں میں ‘مینارٹی کارڈ’ مکمل میرٹ اور پاورٹی اسکور کی بنیاد پر تقسیم کیے گئے ہیں، جس میں کسی قسم کی سیاسی سفارش یا پسند ناپسند کو دخل نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرسمس، ویساکھی اور دیوالی جیسے تہواروں پر خصوصی گرانٹس کی شفاف تقسیم حکومت کی ترجیح ہے۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نااہل قیادت کے باعث کے پی کے میں عوام بدامنی، دہشت گردی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 15 سالہ اقتدار کے باوجود وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور اب وہاں کے عوام کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیسی قیادت چاہتے ہیں۔
