ایران، اسرائیل اور امریکا میں شدید جھڑپیں، دنیا خطرناک جنگ کے دہانے پر

تہران / واشنگٹن / بیروت: (کیو این این ورلڈ)مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں ایک جانب بڑے پیمانے پر فضائی و میزائل حملوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب خطے کے مختلف ممالک میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں 40 سے زائد اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے بھی ایران کے شہر اصفہان میں اسلحہ ذخائر پر 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ کیا۔ برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزیرِ جنگ سے منسلک ایک بروکر نے اس تنازع کے دوران ملٹی ملین ڈالر سرمایہ کاری کی کوشش کی، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث یہ ڈیل مکمل نہ ہو سکی۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بڑے دعوے کیے ہیں۔ ایرانی بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی کے مطابق سعودی عرب کے علاقے الخرج میں 200 امریکی پائلٹس اور عملے کی رہائش گاہوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ ایک ایواکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔

ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے خطے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار سسٹمز اور ڈرون دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی میرینز کی ایک میٹنگ کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ بحرین کے مناما ایئرپورٹ کے قریب امریکی ففتھ فلیٹ کے اینٹی ڈرون سسٹم کو تباہ کرنے کا بھی دعویٰ سامنے آیا۔ اسی طرح کویت کے احمد الجابر بیس پر دو ارلی وارننگ ریڈار سسٹمز کو ڈرون حملوں میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

پاسداران انقلاب نے “وعدہ صادق چہارم” آپریشن کی 88ویں لہر میں ایک اسرائیلی کنٹینر جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ایران نے مزید خبردار کیا ہے کہ اب خطے میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر بھی نشانے پر ہوں گے، کیونکہ ان کمپنیوں کی مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز ایران میں مبینہ اہداف کے تعین میں استعمال ہوئیں۔

ادھر اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایک حاملہ خاتون سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملے ان راکٹ لانچنگ سائٹس پر کیے گئے جہاں سے اسرائیل پر حملے کیے جا رہے تھے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,268 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 100 سے زائد بچے شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں “رجیم چینج” ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ امریکا کا مقصد نہیں تھا بلکہ اصل ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، جو حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران سے نکل سکتا ہے۔

اسی دوران امریکا اور اسرائیل نے وسطی ایران کے مبارکہ اسٹیل پلانٹ پر ایک ہفتے میں دوسری بار حملہ کیا۔ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق امریکا نے اب تک ایران پر 11 ہزار حملے کیے ہیں اور بی-52 بمبار طیاروں کی پروازیں بھی شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ میزائل، ڈرون اور نیوی کو سپلائی دینے والے لاجسٹک نیٹ ورک کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکا میں ایک سروے کے مطابق ہر 10 میں سے 4 ری پبلکنز کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ فوری ختم کر دینی چاہیے، جبکہ دو تہائی امریکی عوام بھی جنگ کے خاتمے کے حق میں ہیں، چاہے تمام مقاصد حاصل نہ بھی ہوئے ہوں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو بھی جنگ بندی کے لیے ماحول سازگار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ روکنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن نے صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو گھروں سے کام کرنے، فضائی سفر اور ڈرائیونگ کم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ توانائی بحران کے خدشے کے پیش نظر قابل تجدید توانائی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات میں منہاد بیس کے قریب ایک خفیہ فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں 200 کے قریب امریکی اہلکار موجود تھے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب خطے میں امریکی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنائے گا اور خبردار کیا ہے کہ ان کمپنیوں کے ملازمین محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا پر اعتماد کی سطح صفر ہو چکی ہے اور ایران کو کسی ممکنہ امریکی زمینی کارروائی کا کوئی خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ تنازع دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا۔

ادھر امریکی جنگی بحری جہاز “یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش” کو مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے، جس پر 4 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس تعیناتی پر فوجیوں کے اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان اہلکاروں کو پہلی ہی تعیناتی میں جنگی میدان میں بھیجا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر خطے کی صورتحال نہایت کشیدہ ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سفارتی کوششیں بھی تیز کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے