میاں حسنات احمد قریشی: خدمت، دیانت اور کامیابی کی روشن مثال
تحریر: حاجی محمد سعید گندی
ڈیرہ غازی خان کی سرزمین ہمیشہ سے ایسی شخصیات کو جنم دیتی رہی ہے جو اپنے کردار، محنت اور خدمت کے جذبے سے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں۔ انہی قابلِ فخر ناموں میں ایک نمایاں نام ڈیرہ غازی خان سے 20 کلومیٹر مشرق، دریائے سندھ کے کنارے آباد قصبہ سمینہ کے رہائشی میان حسنات احمد قریشی کا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کو علم، دیانت اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

قصبہ سمینہ کے ایک معزز قریشی خاندان میں آنکھ کھولنے والے میان حسنات احمد قریشی کو شروع سے ہی ایسا ماحول میسر آیا جہاں علم و ادب اور دینی اقدار کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک ہر مرحلے پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

میان حسنات احمد قریشی نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) جیسے اعلیٰ ادارے میں شمولیت اختیار کر کے نہ صرف اپنے کیریئر کا آغاز کیا بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمانداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھائیں۔ ان کی کارکردگی ہمیشہ مثالی رہی اور انہوں نے ہر عہدے پر رہتے ہوئے عوامی خدمت کو اپنا اولین مقصد بنایا۔

ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی ہے، جہاں انہوں نے مختلف فورمز پر شرکت کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ادارے بلکہ ملک کا نام بھی روشن کیا۔ ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت، لگن اور سچائی کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو کامیابی یقینی ہوتی ہے۔

اگر ان کی شخصیت کے انسانی پہلو پر نظر ڈالی جائے تو میان حسنات احمد قریشی ایک نہایت ملنسار، خوش اخلاق اور باوقار انسان ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے حلقۂ احباب میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں کو تعلیم، محنت اور مثبت سوچ اپنانے کی تلقین کرتے ہیں اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیتے ہیں۔

ان کا پیغام سادہ مگر انتہائی مؤثر ہے:تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائیں، ایمانداری کو اپنی پہچان اور ملک و قوم کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔

آج کے دور میں جب معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، میان حسنات احمد قریشی جیسی شخصیات امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد واضح ہو تو انسان نہ صرف خود کامیاب ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

بلاشبہ، میان حسنات احمد قریشی کی زندگی ایک ایسی روشن مثال ہے جو آنے والی نسلوں کو محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کا درس دیتی رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے